1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قیمت پر تنازعہ، پاکستان میں تپ دق کی دوائی نایاب

سوئس دوا ساز کمپنی نوارٹس کے مطابق اس نے پاکستان میں قیمتوں کے حوالے سے تنازعے کے باعث تپ دق یا ٹی بی کی دوائی کی تیاری روک دی ہے۔ اس پیشرفت کے باعث پاکستان میں ٹی بی کی دوائی کی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان تپ دق کے مریضوں کی شرح کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ دنیا کے کئی دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایک مرکزی ادارہ ’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان‘ (DRAP) قریب 320 اہم ادویات کی قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔ تاہم بہت سی دوائیوں کی زیادہ سے زیادہ قیمت میں 2001ء کے بعد سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بہت سی ادویہ ساز کمپنیوں کے لیے اس کی تیاری مشکل ہو گئی ہے۔

یہ مسئلہ خاص طور پر تپ دق سے متعلق ادویات کے حوالے سے شدید ہو چکا ہے۔ پاکستان میں 20 ادویہ ساز اداروں کے ایک تجارتی گروپ ’فارما بیورو‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ حق کے مطابق ملک میں ٹی بی کی ادویات تیار کرنے کا لائسنس 18 کمپنیوں کے پاس ہے مگر ان میں سے صرف چار اس وقت یہ ادویات تیار کر رہی ہیں جن میں نوارٹس بھی شامل ہے۔

پاکستان کی کُل 190 ملین کی آبادی میں سے قریب پانچ لاکھ افراد ہر سال تپ دق میں مبتلا ہو جاتے ہیں

پاکستان کی کُل 190 ملین کی آبادی میں سے قریب پانچ لاکھ افراد ہر سال تپ دق میں مبتلا ہو جاتے ہیں

ڈاکٹروں اور صحت سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ ان ادویات کی کمیابی سے اس بات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ لاکھوں ایسے مریضوں کو ان کے جاری علاج کے دوران ہی یہ ادویات ملنا بند ہو سکتی ہیں، جس کی وجہ سے تپ دق کی ایسی اقسام پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا جو ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں۔ ٹی بی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات میں اینٹی بائیوٹیکس کے علاوہ مریضوں کو لاحق صحت کے حوالے سے دیگر پیچیدگیوں کے علاج کی ادویات بھی شامل ہوتی ہیں۔

کراچی میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے مطابق، ’’یہ مسئلہ ایک ایمرجنسی کی صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔‘‘

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کی کُل 190 ملین کی آبادی میں سے قریب پانچ لاکھ افراد ہر سال تپ دق میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ملتان کے ایک رہائشی رانا افتخار انجم کے مطابق انہیں اپنی 15 سالہ بھتیجی کے لیے تپ دق کی ادویات تلاش کرنے میں ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جبکہ اسلام آباد کے ایک بڑے ہسپتال سے بطور فارماسسٹ منسلک محمد رفیق کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بھائی کے لیے ایک حکومتی ہسپتال سے یہ ادویات حاصل کرنے کے لیے دو ہزار روپے بطور رشوت ادا کرنا پڑتے ہیں۔

ادویات کی کمیابی سے تپ دق کی ایسی اقسام پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا جو ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں

ادویات کی کمیابی سے تپ دق کی ایسی اقسام پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا جو ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں

نوارٹس کے ترجمان ڈیرموٹ ڈوہرتھی کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی جو پاکستان میں ٹی بی سے متعلق ادویات کی مارکیٹ کا قریب 30 فیصد حصہ رکھتی ہے، پاکستان میں یہ کاروبار چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کمپنی کے پاکستان میں ریگولیٹری معاملات کے انچارج احسن رئیس نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان ادویات کی تیاری روکنے کی وجہ قیمتوں کے معاملے پر پیدا ہونے والا تنازعہ ہے: ’’اگر انہوں نے ہمیں قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی ہوتی تو ہم نے یہ کام کبھی نہ کیا ہوتا۔‘‘