1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قیدیوں کے تبادلے میں اسرائیل اور حماس دونوں کی کامیابی!

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے مابین قیدیوں کے تبادلے کا جو معاہدہ ہوا ہے اس کی بازگشت کافی عرصے سے سنائی دے رہی تھی اور اب دونوں فریق ہی اپنی اپنی کامیابی کا پرچار کر رہے ہیں۔

default

معاہدے کے تحت رہا ہونے والا اسرائیلی فوجی گیلات شالیت 2006ء سے حماس کے قبضے میں ہے۔ قیدیوں کے تبادلے کے اس معاہدے کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں اور مراحل آئے، جن میں سلامتی و سیاست سے متعلق داخلی معاملات اور مصر میں حُسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ قابل ذکر ہیں۔ ایک دوسرے کی تباہی کے خواہش مند حماس اور اسرائیل نے منگل کو انتہائی مسرت کے ساتھ اس معاہدے کے طے پا جانے کا اعلان کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس بنیاد پر سیاست چمکا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسے فوجی کی محفوظ واپسی ممکن بنائی ہے، جس کی حالت زار ایک قومی سوگ کی شکل اختیار کرنے لگی تھی۔ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ سخت گیر مؤقف کے حامل نیتن یاہو کسی معاہدے کی بجائے فوجی کارروائی کے ذریعے شالیت کو حماس کے قبضے سے چھڑانے کی کوشش کریں گے۔ مگر بعض کے خیال میں 1994ء میں حماس کے قبضے سے Nachshon Wachsman نامی اسرائیلی فوجی کو چھڑانے کی ناکام کوشش کے پیش نظر ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران واخمن اور اسے چھڑانے کی کوشش کرنے والا اسرائیلی کمانڈو دونوں ہی مارے گئے تھے۔

نیتین یاہو کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہوں نے بہترین معاہدہ کیا ہے، ’’آنے والے وقتوں میں شاید کوئی معاہدہ ہو ہی نہ پاتا‘‘۔ خیال رہے کہ نیتن یاہو کو خارجہ امور میں مصر اور ترکی کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور ملک کے اندر مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاجات کا بھی سامنا ہے۔

Israel Hamas Gefangenenaustausch Gilad Schalit Flash-Galerie

گیلات شالیت، فائل فوٹو

اسرائیل نے غزہ پٹی میں برسراقتدار حماس تنظیم کو مسلسل عسکری اور اقتصادی طور پر دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ معاہدے کے بعد حماس اب اپنے فلسطینی حریف الفتح کے محمود عباس کی مقبولیت کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس اقوام متحدہ میں رکنیت کی درخواست جمع کروانے کے بعد مقبولیت کے نقطہء عروج پر ہیں۔ حماس نے اپنے جن 1027 قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ کیا ہے، ان میں سے 300 ایسے ہیں جنہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

معاہدے کے تحت ایسے متعدد قیدی حماس کے حوالے نہیں کیے جائیں گے، جن پر سنگین الزامات ہیں۔ اسی طرح رہائی پانے والے 250 قیدیوں کی رہائی مشروط ہے کہ ان افراد کو مغربی کنارے میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا بلکہ یہ غزہ ہی میں رہیں گے۔ غزہ چونکہ مکمل طور پر اسرائیل کے حصار میں ہے اسی لیے یہاں سے اسرائیلیوں پر حملوں کا امکان قدرے کم ہے۔

حماس کے لیڈر خالد مشعل کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ آسان نہیں تھا، ’’ہم نے شدید جنگیں لڑیں، دشمن نے ٹال مٹول کیا، اسی لیے اس معاہدے میں کئی سال لگے‘‘۔ مشعل نے مزید کہا کہ ان قیدیوں کی رہائی دو مرحلوں میں ہو گی، پہلے مرحلے میں 450 قیدی رہا کیے جائیں گے اور پھر دو ماہ بعد باقی ماندہ آزاد کر دیے جائیں گے۔ اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے مابین اس نئے معاہدے میں جرمنی اور مصر کی نئی حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM