1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

قیامت کی گھڑی میں ایک منٹ کی تاخیر

سائنس دانوں کے مطابق انسان کے اپنے ہی ہاتھوں دنیا کی تباہی یا قیامت اب مزید ایک منٹ دور ہوگئی ہے۔ یہ بات ویسے تو عجیب و غریب، دلچسپ اور حیرت انگیز محسوس ہوتی ہے البتہ اس کے کہنے والے انتہائی سنجیدہ لوگ ہیں۔

default

Doomsday Clock یا قیامت کی گھڑی دراصل ایک علامتی وقت کو ظاہر کرتی ہے جس سے یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قیامت اب کتنی دور ہے اور یہ علامتی وقت دراصل ایٹمی ہتھیاروں اور دیگر انسانی کارروائیوں کی وجہ سے دنیا کے ممکنہ خاتمے کے وقت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس علامتی گھڑی پر آدھی رات یعنی رات کے ''بارہ بجے '' کو دنیا کی تباہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کلاک میں ایک منٹ کی کمی کے بعد اب اس میں چھ منٹ رہ گئے ہیں، یعنی دنیا اپنی ممکنہ تباہی سے ایک منٹ مزید دور ہوگئی ہے۔

California goes geen - BdT

ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو انسانیت کو درپیش بڑے خطرات میں شمار کیا جارہا ہے

یہ تصور انیس سو سینتالیس میں پہلی بار پیش کیا گیا تھا اور اس وقت گھڑی آدھی رات یا بارہ بجنے میں سات منٹ کم کا وقت دکھاتی تھی۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ قیامت کا حساب رکھنے والے DoomsDay گھڑیال کی سوئیاں پہلے بھی اٹھارہ بار آگے یا پیچھے کی جاچکی ہیں۔ ایک اور دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس گھڑی کا تصور پیش کرنے والوں میں وہ سائنس دان بھی شامل تھے جنہوں نے دنیا کا پہلا جوہری بم تیار کرنے کی راہ ہموار کی تھی اور یوں لوگوں کو بڑے پیمانے پر تباہی کا راستہ دکھایا۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، جنہیں ان کے سخت ناقد جنگ کا جنونی بھی پکارتے ہیں، ان کے دور میں اس گھڑی کا وقت دو منٹ آگے کیا گیا تھا۔

ابتدا میں عالمی جوہری جنگ کو انسانی نسل کی تباہی کو درپیش سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جارہا تھا تاہم اب اس نظریے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی سائنس اور نینو ٹیکنالوجی میں پیشرفت کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔

Georg W. Bush bei seiner Rede zum Unabhängigkeitstag

سابق امریکی صدر جارج بش کے دور میں اس گھڑی کا وقت دو منٹ آگے کیا گیا تھا

چودہ جنوری کو ''قیامتی گھڑی'' میں مزید ایک منٹ کی تبدیلی کوعالمی رہنماؤں کی جانب سے تخفیف اسلحہ کی کوششوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لئے مشترکہ جستجو کا ثمر قرار دیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن میں باراک اوباما کی حکومت کے قیام کو بھی عالمی طور پر تعاون کے نئے دور سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

یہ تفصیلات جوہری سائنس دانوں کے آن لائن جریدے The Bulletin of the Atomic Scientists میں شائع کی گئی ہیں۔ سائنس دانوں کے اس گروہ میں انیس نوبل انعام یافتگان بھی شامل ہیں۔ امریکی نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران طبیعات دان پرویز ہود بھائے نے کہا کہ دنیا اب جوہری اسلحے کے نقصانات سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہے۔ ان کے بقول عالمی طور پر اب یہ رائے قائم ہوگئی ہے کہ ایٹمی اسلحہ نہ تو جنگ میں کام آنے والی چیز ہے اور نہ مضبوط دفاع کی ضمانت۔ دوسری طرف ایک اور سائنس دان لوویل زاخنوف نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ عالمی درجہ حرات میں بڑھتا ہوا اضافہ کسی ممکنہ جوہری جنگ سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ ان کے بقول ''قیامتی گھڑی'' کا محض ایک منٹ پیچھے کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ انسانی بقاء ابھی بھی خطرات میں گھری ہوئی ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM