1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قیادت پر تنازعے کا بحران ختم ہو گیا، افغان طالبان

افغانستان میں طالبان نے کہا ہے کہ اُن کی تحریک کو خطرے سے دوچار کرنے والا ایک بڑا تنازعہ حل ہو گیا ہے کیونکہ انتقال کر جانے والے رہنما ملا عمر کے رشتے داروں نے اُس کے جانشین ملا منصور کے لیے حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگرچہ اس خبر کی تصدیق کے لیے ملا عمر کے عزیزوں کے ساتھ رابطہ نہیں ہو سکا ہے تاہم ملا عمر کے بیٹے کے ایک قریبی ساتھی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ملا منصور کی جانب سے آٹھ مطالبات کی ایک فہرست تسلیم کیے جانے کے بعد ایک خفیہ تقریب میں سمجھوتے کا جشن منایا گیا۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس قریبی ساتھی کا کہنا تھا:’’ملا منصور نے یہ تمام مطالبات مان لیے ہیں۔‘‘ ان مطالبات میں قیادتی کونسل کے ڈھانچے کو ازسرِ نو تشکیل کرنا اور اتفاقِ رائے کے ساتھ ساتھ فیصلے کرنا شامل تھا۔ طالبان کے سرکاری ترجمان نے ملا منصور کی نمائندگی کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ جن ترامیم پر اتفاق ہوا ہے، اُنہیں درحقیقت عملی شکل دی جائے گی۔

طالبان نے ملا عمر کے انتقال کر جانے کا اعلان اس سال جولائی میں کیا تھا۔ تب تک اُن کے انتقال کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس اعلان کے نتیجے میں افغان طالبان اور کابل حکومت کے درمیان جاری امن عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا جبکہ طالبان کی صفوں میں ملا منصور کو ملا عمر کا جانشین بنانے کے موضوع پر تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ افغانستان کے طالبان عسکریت پسند افغان حکومت کے خلاف برسرِپیکار ہیں اور ملک میں پھر سے اسلامی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

طالبان کا موقف یہ تھا کہ ملا عمر کے انتقال کی خبر کو خفیہ رکھنا اس لیے ضروری تھا تاکہ ایک ایسے وقت میں تحریک کی صفوں میں اتحاد کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے جب نیٹو کے جنگی دستے 2014ء میں افغانستان سے انخلاء کی تیاریاں کر رہے تھے۔

منگل پندرہ ستمبر کو طالبان نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے:’’ہم اس تحریک کو متحد رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔‘‘ اس ویب سائٹ کو نئے قائد ملا منصور کے حامی چلا رہے ہیں۔

اس بیان میں ملا عمر کے چھوٹے بھائی ملا عبدالمنان کے ساتھ ساتھ ملا عمر کے بیٹے ملا محمد یعقوب کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور ان دونوں نے کہا ہے کہ وہ ملا منصور کی حمایت کرتے ہیں۔

Taliban Chef Mullah Achtar Mansur

ملا منصور اختر، جنہیں افغان طالبان نے دو سال سے زائد عرصہ قبل انتقال کر جانے والے ملا عمر کا جانشین مقرر کیا ہے

سن 2001ء میں امریکی قیادت میں لڑنے والے اتحادی دستوں نے طالبان کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔ تب سے طالبان بیرونی دنیا کی پشت پناہی سے سرگرم حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں، جس کے دوران بڑے پیمانے پر عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس سال کے پہلے چھ مہینوں کے دوران پانچ ہزار کے قریب شہری ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں بے یقینی کی فضا کے باعث ہزارہا افغان ملک چھوڑ کر یورپ کا رُخ کر رہے ہیں۔ ان دنوں یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے مہاجرین کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا ہے اور ان مہاجرین میں افغانوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔