1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قُندوز حملہ: افغان شہریوں کے ملے جلے تاثرات

بدھ سے برلن میں ایک تحقیقاتی کمیٹی نے افغانستان کے علاقے قُندوز میں ہونے والی اُس فضائی بمباری کی چھان بین شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہریوں سمیت ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

default

یہ واقعہ جرمنی کی سیاسی فضا میں زبردست ہلچل کا باعث بنا ہے۔ خود افغانستان میں اِس واقعے پر کیا رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ستمبر میں دو ٹینکرز پر بمباری کے بارے میں افغان باشندوں سے اُن کی رائے پوچھی جائے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ واقعہ دُور دراز جرمنی میں کہیں زیادہ بحث کا موضوع بن رہا ہے، بہ نسبت اُن باشندوں کے ہاں، جن کے بہت قریب یہ واقعہ رونما ہوا، مثلاً قُندوز صوبے میں۔ اگرچہ یہ افغان شہری زیادہ تر اپنے روزمرہ مسائل میں الجھے رہتے ہیں لیکن ستمبر میں ٹینکرز پر بمباری کا واقعہ بھی اُن کے ذہن سے پوری طرح محو نہیں ہوا ہے، جیسے کہ مثلاً اسکول کے اِس طالبعلم کے ہاں: ’’جرمنوں نے عمر خیل گاؤں میں جو کچھ کیا، وہ ایک غلطی تھی۔ تب طالبان کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ شہری بھی مارے گئے تھے۔ ایسا مستقبل میں کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

Jahresrückblick 2009 Flash-Galerie Tanklaster Bombardement Kunduz

یہ حملہ جرمن کمانڈر کی ہدایات پر کیا گیا تھا

جہاں ایک حلقے کا کہنا یہ ہے کہ اِس بمباری کی وجہ سے کم از کم جزوی طور پر شمالی افغانستان میں جرمنوں کی اچھی ساکھ کچھ متاثر ہوئی ہے، وہاں دیگر حلقوں کی رائے مختلف بھی ہے۔ قُندوز کی ایک ٹیچر کا کہنا ہے کہ لوگ طالبان سے تنگ آ چکے تھے۔ جرمن ریڈیو سے بات چیت میں اِس خاتون نے کہا، یہ حملہ درست تھا کیونکہ کئی انتہا پسند اِس کا نشانہ بنے۔

’’ٹینکرز پر بمباری کے بعد سے قُندوز اور دیگر اضلاع میں حالات پُر سکون ہو گئے ہیں۔ اِس سے پہلے طالبان نے ہمارے اسکول کو کئی دھمکی آمیز خطوط لکھے، چنانچہ ڈر کے مارے ہم وہاں جا ہی نہیں سکتے تھے۔ اب لیکن ہم وہاں جا سکتے ہیں ا ور طالبان کی موجودگی اُتنی نظر نہیں آتی، جتنی اِس حملے سے پہلے تھی۔‘‘

ایک دوسرے افغان شہری کے مطابق اِس حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت میں قصور جرمنوں کا نہیں بلکہ طالبان کا تھا۔ کئی دیگر نے کہا کہ فوجیوں کو طالبان کے خلاف آئندہ بھی سختی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ یہی زبان سمجھتے ہیں۔ اِس ساری بحث کا اُن لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں، جن کے عزیز اِس حملے میں مارے گئے۔ بمباری کی جگہ سے قریب ہی واقع ضلع چار درہ کے ایک رہائشی کے خیال میں جرمنی کو مرنے والوں کے لواحقین کو زرِ تلافی ادا کرنا چاہیے۔

’’اِن لواحقین کا دکھ درد ختم نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن جو کنبے اپنے کفیل سے محروم ہو گئے، یا جن میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں بچا، اُن کی زندگی اِس پیسے سے کچھ آسان ضرور ہو جائے گی۔‘‘

اِن افغان شہریوں کو اُس ہلچل کا زیادہ اندازہ نہیں ہے، جو قُندوز کے واقعے پر جرمنی میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تاہم اِن شہریوں کا مطالبہ ہے کہ جرمنی کو افغان روایات کا احترام کرتے ہوئے اِس واقعے پر معذرت کرنی چاہیے۔

رپورٹ: کائی کیوسٹنر/امجد علی

ادارت: گوہر نذیر گیلانی