1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’قومی خود غرضی خطرناک ہے‘ گابریئل کی ٹرمپ پر تنقید

جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابرئیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح انداز میں تنقید کی۔ ان کے بقول ’امریکا سب سے پہلے‘ کی پالیسی سے قومی سطح پر محاذ آرائیوں میں اضافہ ہو گا۔

جرمن وزیر خارجہ زیگمارگابریئل نے نیور یارک میں اپنے خطاب میں قومی خود غرضی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دنیا کے بارے میں سوچ کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے،’’دنیا کے بارے میں اس سوچ کو اگر دیکھا جائے تو یہ دنیا ایک ایسا جنگ کا میدان دکھائی دے گی، جس میں سب ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ تمام فریقین تنہا یا پھر اپنے من پسند ساتھیوں کے ساتھ صرف اپنے مفادات کے تحفظ میں لگے ہوئے ہیں‘‘۔

گابریئل نے امریکا سب سے پہلے کی پالیسی کے بارے میں خبردار کیا، ’’آخر میں صرف شکست خوردہ رہ جاتے ہیں‘‘۔ تاہم اپنی اس پورے خطاب کے دوران انہوں نے وائٹ ہاؤس میں براجمان ڈونلڈ ٹرمپ کا براہ راست نام نہیں لیا۔

گابیریئل نے مزید کہا،’’ہم نے یہ سیکھا ہے کہ جرمنی سب سے پہلے کی پالیسی نے ہمیں مضبوط اور خوشحال نہیں بنایا بلکہ یورپی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو فوقیت دینے سے جرمنوں کو امن اور کامیابی حاصل ہوئی ہے۔‘‘

ٹرمپ کے ’بھونکنے‘ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، شمالی کوریا

ٹرمپ کا دماغ ماؤف ہو چکا ہے، کم جونگ اُن

’سب سے پہلے امریکا‘

گابریئل نے شمالی کوریائی تنازعے کے بارے میں کہا کہ جرمنی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ نئی پابندیوں کی تائید کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاہم یہ ایک عالمی مسئلہ ہے، ’’ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تمام تر سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس تنازعے کی شدت میں کمی لائیں اور پھر اس مسئلے کا ایک طویل المدتی حل تلاش کریں۔ یہ سب کچھ ہمیں مل کر ممکن بنانا ہو گا۔‘‘

اس سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی کوریائی تنازعے کے سفارتی حل کی بات کر چکی ہیں۔ میرکل کے بقول، ’’ کسی مسئلے کو سفارتی انداز میں حل کرنا جرمنی کا خاصا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا تھا کہ جرمنی اس مسئلے میں ثالث کا کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:44

ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں امریکا سب سے پہلے

 

DW.COM

Audios and videos on the topic