1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قومی بینکوں پر نیا ٹیکس، یورپی یونین متفق

یورپی یونین کے رہنماؤں نے قومی بینکوں پر نیا ٹیکس لگانےکا فیصلہ کیا ہے جس سے حاصل ہونے والی آمدنی مستقبل میں کسی ممکنہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے کام آسکے گی۔

default

یہ فیصلہ برسلز منعقدہ یورپی اتحاد کے ستائیس رکن ممالک کے سربراہی اجلاس میں کیا گیا۔ اسی ضمن میں عالمی سطح پر رقوم کی منتقلی پر ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ جی ٹوئنٹی کے اجلاس تک مؤخر کردیا گیا ہے۔ حکام نے حالیہ فیصلے کی جامع تفصیلات فی الحال واضح نہیں کیں۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ بینکوں سے محصولات کے حصول کا ایسا نظام وضع کیا جائے، جس سے تمام رکن ممالک پر برابر بوجھ پڑے اور مراعات بھی برابر تقسیم کی جائیں۔

اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق رکن ممالک اپنے یہاں اس نئی لیوی یا ٹیکس کو اس انداز سے نافذ کریں گے کہ مختلف ممالک کے بینکوں کے درمیان تنازعہ پیدا نہ ہو۔ خیال رہے کہ برطانیہ کی نئی حکومت نے پہلے سے ہی اپنے ہاں اگلے ہفتے مالیاتی اداروں پر ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔

جرمنی اور فرانس کی تجویز تھی کہ رقوم کی عالمی سطح پر منتقلی پر ٹیکس عائد کیا جائے تاہم تمام رکن ممالک نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی۔ یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانوئیل باروسوکاکہنا ہے کہ اس قسم کی تجویز کی شدید مخالفت سامنے آسکتی ہے اور اسے عالمی طور پر نافذ کروانا انتہائی مشکل کام ہے۔

Großbritannien EU David Cameron und Herman Van Rompuy

یورپی یونین کے سربراہ ہیرمن فان رومپوئے دائیں، اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بائیں

یورپی یونین کے صدر ہیرمان فان رومپوئے نے اس موقع پر کہا کہ اس بات کا فیصلہ ٹورنٹو میں ہونے والے جی ٹوئنٹی کے آئندہ اجلاس میں ہوگا۔ اعلامئے میں البتہ یہ نکتہ موجود ہے کہ اس نوعیت کے ٹیکس کو ممکن بنانے کے لئے کوششیں کی جائیں گی۔

طاقتور یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور امریکہ بھی اس تجویز کے حامی ہیں۔ تاہم برازیل، کینیڈا اور بھارت جیسے ممالک اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ’دوسروں‘ کی جانب سے پیدا کئے گئے مسائل کا حل ان سے پیسے لے کر نہیں کیا جانا چاہیے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق برطانیہ بھی اس تجویز کے خلاف ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ اس ٹیکس کے نفاذ سے اس کی منافع بخش مالیاتی صنعت سوئٹزرلینڈ یا کسی غیر یورپی ملک منتقل ہوجائے گی۔

یورپی حکام کو امید ہے کہ محض یورپ کے اندر ہی رقوم کی منتقلی پر ٹیکس کے نفاذ سے سالانہ بیس ارب یورو جمع ہوسکتے ہیں تاہم اس کے ساتھ یہ خطرہ جڑا ہے کہ ادارے اس ٹیکس سے بچنے کے لئے برطانیہ جیسے ممالک کا رخ کرسکتے ہیں، جہاں ٹیکسوں میں چھوٹ ہے اور جہاں پہلے ہی یورپ کے مالیاتی شعبے سے وابستہ اسی فیصد اداروں کے دفاتر قائم ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM