قندیل قتل کیس، ’دروغ گوئی تجزیے‘ سے نئے انکشافات | حالات حاضرہ | DW | 31.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندیل قتل کیس، ’دروغ گوئی تجزیے‘ سے نئے انکشافات

قندیل بلوچ کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں مفتی عبدالقوی کے علاوہ مقتولہ کے کزن حق نواز سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق پولی گرافی ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ قندیل کو دراصل حق نواز نے گلا گھونٹ کر ہلاک کیا تھا۔

Qandeel Baloch

پولی گرافی ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ قندیل کو دراصل حق نواز نے گلا گھونٹ کر ہلاک کیا تھا

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ قندیل بلوچ قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ اس قتل کے مرکزی ملزم محمد وسیم نے قندیل کو ہلاک کرنے کا اقبال جرم کر رکھا ہے لیکن پولیس نے بتایا ہے کہ پولی گرافی ٹیسٹ (دروغ گوئی تجزیے) سے معلوم ہوا ہے کہ دراصل قتل کی یہ واردات قندیل کے بھائی وسیم کے بجائے اس کے کزن حق نواز نے کی تھی۔

DW.COM

پولیس کے بقول وسیم اور حق نواز کے پولی گرافی ٹیسٹ کے دوران ان ملزمان کا ویڈیو اور تحریری بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق نئی تفتیش میں ملزمان کی نفسیاتی اور جسمانی حرکات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ حق نواز نے ہی کپڑے سے قندیل بلوچ کا گلا گھونٹا تھا۔

مقامی میڈیا نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس واردات سے قبل وسیم اور حق نواز نے قندیل اور اس کے والدین کو بے ہوش کر دیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وسیم نے قندیل کے ہاتھ پاؤں پکڑے جبکہ حق نواز نے اس پاکستانی ماڈل کا گلا گھونٹ دیا تھا۔

پاکستان کے قدامت پسند معاشرے میں سماجی ویب سائٹس پر ’بے باک‘ ویڈیوز اور سیلفیوں سے شہرت حاصل کرنے والی چھبیس سالہ قندیل کو پندرہ جولائی کو قتل کیا گیا تھا۔

پولی گرافی ٹیسٹ کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ قندیل کے بھائی عارف نے وسیم اور حق نواز کو اکسایا تھا کہ وہ اپنے ’گھرانے کی عزت کی خاطر‘ قندیل کو قتل کر دیں۔ عارف کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں رہائش پذیر ہے۔

Screenshot Instagram/quandeel_baloch

سماجی ویب سائٹس پر ’بے باک‘ ویڈیوز اور سیلفیوں سے شہرت حاصل کرنے والی چھبیس سالہ قندیل کو پندرہ جولائی کو قتل کیا گیا تھا

Qandeel Baloch mit Mufti Abdul Qavi

قندیل بلوچ کے قتل سے قبل مقتولہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر عبدالقوی کے ساتھ اپنی متنازعہ ہو جانے والی تصاویر بھی جاری کی تھیں

پولیس نے مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی کا بیان بھی ریکارڈ کیا ہے۔ مقامی میڈیا نے خاتون تفتیشی افسر عطیہ جعفری کے حوالے سے بتایا ہے کہ عبدالقوی نے اپنا تحریری بیان جمع کرا دیا ہے جبکہ آئندہ تفتیشی عمل میں وہ شریک رہیں گے۔ قندیل بلوچ کے قتل سے قبل مقتولہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر عبدالقوی کے ساتھ اپنی متنازعہ ہو جانے والی تصاویر بھی جاری کی تھیں۔

مقتولہ کے بھائی وسیم نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ اس نے اپنی بہن کو اس کے رویوں کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ قندیل کی ماں کا بھی یہی کہنا تھا کہ قندیل کی قتل کی وجہ وہ طعنے بنے، جو مقتولہ کے بارے میں اس کے اہل خانہ کو سماجی طور پر سننا پڑتے تھے۔

اس قتل کے بعد پاکستان میں ایک مرتبہ پھر ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے خلاف زیادہ سخت قانون سازی کے حوالے سے بحث گرم ہو چکی ہے۔