1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

قندیل بلوچ کیس، مفتی عبدالقوی اور سوشل میڈیا پر تبصرے

مذہبی رہنما اور پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کی قندیل بلوچ قتل کیس میں عدالت سے فرار کے بعد گرفتاری اور اب بیماری کی خبروں پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ سال مقتولہ قندیل بلوچ اور مفتی قوی کی سیلفیوں کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہی سے مفتی قوی سوشل میڈیا پر زیر بحث آنے والا اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔

ٹویٹر صارف احمد قریشی نے اپنے پیغام میں لکھا، ’’ آخر کار قندیل بلوچ کو کچھ انصاف ملا۔ مفتی قوی کے گرفتاری وارنٹ جاری ہوئے۔ نفرت انگیز بیان کے ذریعے قتل کی ایک مثال۔‘‘

ٹویٹر صارفہ عالیہ شاہ لکھتی ہیں،’’ اگر مشال خان اور قندیل بلوچ کے قاتل بچ نکلے تو یہ انسانیت کی تذلیل، عدالتی نظام کی شکست اور طاقت کی فتح ہو گی۔‘‘

ٹویٹر صارف کاشف سرمد خالد نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا ہے،’’ مجھے امید ہے کہ قندیل کو انصاف ملے گا۔‘‘

پاکستانی میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے مطابق گزشتہ برس جولائی میں سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کے قتل پر اکسانے کے الزام کی تفتیش کے لیے پولیس نے بارہا مفتی قوی کو بلایا لیکن وہ شامل تفتیش نہیں ہوئے۔ قندیل بلوچ کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔

قتل کے بعد ملتان کی پولیس نے جن تین افراد پر فرد جرم عائد کی تھی اُن میں قندیل کے بھائی کے علاوہ دو دیگر افراد بھی شامل تھے۔ پاکستان کے مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا کے مطابق قندیل کے والد نے مفتی قوی پر الزام عائد کیا تھا کہ اُن کے اکسانے پر قندیل کو قتل کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ملتان کی سیشن عدالت میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست نامنظور ہونے کے بعد مفتی قوی احاطہ عدالت سے فرار ہو گئے تھے جس کے بعد انہیں جھنگ جانے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں مفتی قوی کو چار روز کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا تاہم اسی رات سے ’دل میں تکلیف‘ کی شکایت پر انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ معمول کے تشخیص کے بعد مفتی صاحب کا پولی گرافک ٹسٹ بھی کرایا جائے گا۔ 

DW.COM

Audios and videos on the topic