1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندیل بلوچ کو قتل کر دیا گیا

پاکستانی سوشل میڈیا پر بے شمار مداحوں اور صارفین کی پسندیدہ ماڈل قندیل بلوچ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی ’کم کارداشیان‘ قرار دی جانے والی قندیل کو مبینہ طور پر ان کے بھائی نے ’غیرت کے نام پر‘ قتل کیا۔

پاکستانی صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کی پولیس نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شہرت رکھنے والی نوجوان خاتون ماڈل قندل بلوچ مبینہ طور پر اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ مقامی پولیس کے سربراہ اعظم سلطان نے بتایا کہ مقتولہ کا بھائی اس قتل کا ارتکاب کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ قندیل بلوچ کی عمر چھبیس برس تھی۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس قتل میں ایک سے زائد افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔ پولیس چھان بین کر رہی ہے اور مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہے۔

ملتان پولیس کے اعلیٰ اہلکار اعظم سلطان نے یہ بھی بتایا کہ مقتولہ کا بھائی اپنی اس بہن کو گزشتہ کچھ عرصے سے متنبہ کر رہا تھا کہ وہ فیس بک پر اپنی تصاویر پوسٹ کرنا بند کر دے کیونکہ یوں ’خاندان کی عزت پر حرف‘ آ رہا تھا۔

Qandeel Baloch

سوشل میڈیا پر ان کی پرستاروں کی تعداد لاکھوں میں تھی

ایک پاکستانی ٹی وی چینل کے مطابق قندیل بلوچ کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تاہم پولیس کے مطابق مقتولہ کی موت گلا گھونٹ دینے سے ہوئی۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال پہنچا دی ہے۔ واردات کی جگہ سے فورنزک ماہرین نے کئی اہم شواہد جمع کیے ہیں، جن کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا نے اس واردات کو واضح طور پر ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا واقعہ قرار دیا ہے جبکہ پولیس حکام بھی اس موقف کی تائید کر رہے ہیں۔

قندیل بلوچ کا اصل نام فوزیہ عظیم تھا۔ حال ہی میں اُن سے ممتاز مذہبی اسکالر مفتی عبدالقوی نے بھی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی تصاویر نے بھی سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی تھی۔ بعد میں مفتی عبدالقوی کو ان کے اس اقدام اور شائع کی گئی تصاویر کے باعث کئی مذہبی رہنماؤں اور علماء کے شدید مذمتی بیانات کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

قندیل بلوچ کسی ذاتی کام کے سلسلے میں ایک ہفتے کے لیے ملتان میں تھیں۔ تین ہفتے قبل انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اور اسلام آباد پولیس کے نام لکھے گئے ایک خط میں اپنے لیے خصوصی سکیورٹی کی درخواست بھی کی تھی۔

Qandeel Baloch mit Mufti Abdul Qavi

قندیل بلوچ اور مفتی عبدالقوی

اس درخواست میں بلوچ نے اُن افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا تھا جنہوں نے انہیں سوشل میڈیا پر المناک انجام کی دھمکیاں دی تھیں۔ اس خاتون ماڈل کو موبائل فون پر بھی قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس پر قندیل بلوچ نے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں گھر پر سکیورٹی مہیا کی جائے۔

قندیل بلوچ کو پاکستان کی ’کم کارداشیان‘ بھی قرار دیا جاتا تھا۔ کارداشیان امریکی سوشل میڈیا اور سماجی تقریبات میں کثرت سے شریک ہونے والی معروف ماڈل اور ’سوشلائٹ‘ ہیں۔ بلوچ کی ایک نئی ویڈیو حال ہی میں ریلیز ہوئی تھی۔ نوجوان گلوکار آریان خان کے پنجابی گیت میں وہ ہوش ربا انداز میں جلوہ گر ہوئی تھیں۔ اس ویڈیو کا ٹائٹل ’بین‘ ہے۔

ایسی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں کہ مقتولہ ماڈل مطلقہ تھیں اور ایک ہ شادی سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ بعد ازاں قندیل بلوچ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی یہ شادی ایک جبری بندھن تھا، جس سے وہ آزاد ہو چکی تھیں۔