قندیل بلوچ کا قتل اور پاکستانی معاشرے کا المیہ | معاشرہ | DW | 17.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قندیل بلوچ کا قتل اور پاکستانی معاشرے کا المیہ

ڈیرہ غازی خان کے قریب پاکستانی ماڈل اور اداکارہ قندیل بلوچ کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اس انجام تک پہنچنے میں قندیل خود ذمے دار تھیں یا پاکستانی معاشرے کو خواتین کی طرف اپنا رویہ درست کرنا چاہیے؟

قندیل بلوچ کو ایک روز پہلے اس کے بھائی نے گلا دبا کر ’غیرت‘ کے نام پر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس نے قندیل بلوچ کے بھائی وسیم کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے میڈیا کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

قندیل بلوچ اس دنیا سے تو چلی گئیں لیکن اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گئی ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ قندیل جس انجام سے دوچار ہوئیں کیا اس کے لیے صرف ان کا بھائی ذمے دار تھا، یا اس کا ذمے دار پاکستانی معاشرہ بھی ہے؟

غلطی یا آزادی؟

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما فرید احمد پراچا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ قندیل بلوچ سے جو ’غلطیاں‘ سرزد ہوئیں اس کے لیے خدا کے نزدیک وہ خود جواب دہ ہیں، لیکن یہ درست نہیں کہ وہ اکیلے ہی ذمے دار تھیں۔

پراچا کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ، حکومت، نظام تعلیم اور میڈیا سب اس صورت حال کے ذمے دار ہیں۔ ان کے بہ قول ہمیں غور کرنا چاہیے کہ بعض اوقات ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے چیزوں کو جس طرح ’گلیمرائز‘ کردیتے ہیں اس کے معاشرے پر کس قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فرید پراچا یہ بھی کہتے ہیں کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے محراب و منبر اور تعلیمی ادارے بھی اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے ہیں۔ "اسلام عورت کے احترام پر مبنی ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کی بات کرتا ہے، جس میں خواتین کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کی بات کی گئی ہے۔ قندیل کے معاملے میں کسی شہری کا قانون کو ہاتھ میں لینا بھی غلط ہے، اس لیے کہ قتل قتل ہے۔ جزا اور سزا کا فیصلہ کرنے کے لیے قانون کا راستہ ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔‘‘

’ریڈ لائن‘ کون طے کرتا ہے؟

تجزیہ نگار سلمان عابد کہتے ہیں کہ قندیل کے قتل کے لیے معاشرہ اور قندیل دونوں ذمے دار ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی میڈیا نے اپنی ریٹنگ کے چکر میں قندیل کو استعمال کر کے تماشا بنا دیا، نیز قندیل بلوچ کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد اس کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود حکومت نے اسے سکیورٹی فراہم نہیں کی اس لیے ریاست بھی اس کی ذمے دار ہے۔

’غیرت‘ کے نام پر ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے معاشرہ بھی کوئی اہم کردار ادا نہیں کر رہا۔ " کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہر ایسے واقعے کے بعد ہر مرتبہ پاکستانی معاشرے میں صرف عورت ہی قتل ہوتی ہے، پاکستان معاشرہ اس واقعے میں ملوث مرد کو عام طور پر جواب دہ نہیں سمجھتا۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ قندیل کی غلطی یہ تھی کہ وہ سیلف پروجیکشن (حصول شہرت) کے لالچ میں معاشرے کی جانب سے طے کردہ ’ریڈ لائن‘ کراس کر گئیں اور انہوں نے پاکستان میں پائی جانے والی حساسیت، روایات اور معاشرتی اخلاقیات کا خیال نہیں رکھا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب پھر بھی یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اٹھے اور قانون کو ھاتھ میں لے لے۔

’دکھوں کی طویل داستان‘

پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم ویمن رائٹس کمیشن کے سربراہ اور قومی اسمبلی کی سابق رکن مہناز رفیع نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستانی معاشرے میں عورتوں کے دکھوں کی کہانی بہت طویل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ملک کے بعض علاقوں میں تو عورتوں کی حالت جانوروں سے بھی بد تر ہے۔ عورتوں پر تشدد اور عورتوں کی تذلیل جیسے واقعات اخبارات میں آئے روز رپورٹ ہوتے ہیں۔ ’’ہم اسلام کا نام تو لیتے ہیں لیکن خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔‘‘

مہناز رفیع، جو کہ ہیومن رائیٹس سوسائٹی آف پاکستان کی سینئر نائب صدر بھی ہیں، کا خیال ہے کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کو بھی محتاط طرزعمل اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی خاتون اپنی مرضی کی زندگی جینا چاہتی ہے تو اسے جان سے مار دینے کا اختیار کسی شخص کو نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق صرف سزائیں دے کر اس صورت حال کی اصلاح نہیں کی جا سکتی بلکہ معاشرے کے تمام طبقوں کو اصلاح کے لیے کام کرنا ہو گا۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی پاکستان کی ایک اور غیر سرکاری تنظیم عورت فاونڈیشن کی ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ممتاز مغل بتاتی ہیں کہ پچھلے سال پاکستان میں ’غیرت‘ کے نام پر 178 خواتین کو موت کےگھاٹ اتار دیا گیا ۔ چوں کہ ایسی وارداتوں میں گھر کے افراد ہی ملوث ہوتے ہیں اس لیے عام طور پر راضی نامہ ہو جاتا ہے اور مجرم سزا سے بچ جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے جب سے حکومت نے ’غیرت‘ کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کے مقدمات کی قدرے مؤثر پیروی کرنا شروع کی ہے، ایسے واقعات کے کیسز ہی رجسٹر نہیں کروائے جا رہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسے واقعات ہو تو رہے ہیں لیکن مقدمات رجسٹر ہونے کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

DW.COM