1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندہار: نیٹو بمقابلہ طالبان

افغان حکام کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لئے افغانستان اورکینیڈا کے سیکورٹی اہلکارجنوبی افغانستان کے مختلف دیہاتوں میں پہنچ کر پوزیشن سنبھال چکے ہیں۔

default

افغان نیشنل آرمی کے اہلکار قندہار جانے کی تیاری میں

ابھی تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے کم از کم چھتیس طالبان عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔ سیکورٹی حکام کے اس دعوے کے بارے میں طالبان کی طرف سے کوئی ردّ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Taliban, Archivbild

طالبان عسکریت پسند

دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے قندہار کے ایک اورضلع میں بارہ جنگجوٴوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایک بم دھماکے میں چار برطانوی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے ایک ترجمان مارک لیٹی کے مطابق قندہار میں نیٹو فورسز اور طالبان عسکریت پسندوں کے مابین اکا دکا جھڑپیں ہوئی ہیں۔

طالبان اور نیٹو فورسز کے درمیان ممکنہ خون ریز جھڑپوں کے خوف کی وجہ سے جنوبی افغانستان کے صوبے قندہار سے سینکڑوں خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں۔ طالبان کے مختلف علاقوں پر قبضے اوراتحادی افواج کے ممکنہ فوجی آپریشن کے ڈر سے مقامی باشندے نقل مکانی پرمجبورہوگئے ہیں۔

Afghanische Flüchtlinge in Pakistan

پاکستان میں ایک افغان پناہ گزین خاندان وطن واپسی کی تیاری میں

دریں اثناء امریکہ نے پاکستان اورافعانستان کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کے بجائے مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کریں۔ امریکی انتظامیہ کا یہ بیان افغان صدر حامد کرزئی کی پاکستان کو اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں افغان صدر نے کہا تھا کہ وہ طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستانی سرحد کے اندربھی اپنی افواج بھیج سکتے ہیں۔