1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندھار کی جیل سے تقریباً پانچ سو طالبان فرار

افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کی ایک جیل سے سینکڑوں قیدی ایک سرنگ کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

default

افغان حکّام نے تصدیق کی ہے کہ قندھار کی ایک جیل سےچار سو چھہتر سیاسی قیدی براستہ سرنگ فرار ہو گئے ہیں۔ ان قیدیوں کو طالبان عسکریت پسند قرار دیا جا رہا ہے۔

جیل کے ڈائریکٹر غلام دستگیر کے مطابق: ’کئی سو میٹر طویل سرنگ کو جیل کے جنوبی حصّے میں کھودا گیا تھا جس کے ذریعے قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔‘

Buddhastatuen in Bamiyan Flash-Galerie Taliban Krieger

طالبان کے جیل سے فرار کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے

طالبان کے ترجمان یوسف احمدی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سرنگ طالبان نے ہی کھودی تھی۔ احمدی کے مطابق: ’قیدیوں نے جیل کے جنوبی حصّے میں تین سو ساٹھ میٹر طویل سرنگ بنائی۔ وہ رات گئے اس سرنگ سے فرار ہونا شروع ہوئے اور پانچ سو اکتالیس قیدی صبح تک وہاں سے فرار ہوگئے۔ احمدی کا کہنا تھا کہ ان میں ایک سو چھ طالبان کمانڈر تھے جبکہ دیگر طالبان کے سپاہی تھے۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز اور قیدیوں کے درمیان کوئی جھڑپ نہیں ہوئی اور وہ باآسانی فرار ہوگئے۔

قندھار کی جیل سے طالبان قیدیوں کے فرار ہونے کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ سن دو ہزار آٹھ میں ایک ہزار کے قریب قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں بہت سے طالبان بھی تھے۔

نیٹو کے مطابق علاقے میں قیدیوں کی تلاش جاری ہے اور اس حوالے سے افغان حکّام کارروائی کر رہے ہیں۔ نیٹو کے مطابق وہ خود اس میں براہِ راست شامل نہیں ہے۔

قندھار طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ طالبان کی ابتدائی تحریک انیس سو نوّے کی دہائی میں اسی صوبے سے شروع ہوئی تھی۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM