1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندھار میں خونریز جھڑپ، تین پولیس اہلکار ہلاک

جنوبی افغان شہر قندھار میں آج بدھ کے روز مقامی پولیس اور باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو طالبان باغی بھی شامل ہیں۔

default

خبر ایجنسی اے ایف پی کی قندھار سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہےکہ یہ لڑائی پولیس کی طرف سے چھاپے کی ایسی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد ہوئی، جس کا مقصد چند باغیوں کو گرفتار کرنا تھا۔

اس کارروائی سے پہلے پولیس کو یہ خفیہ اطلاع ملی تھی کہ دو مسلح باغی وہاں ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے، جن میں سے ایک طالبان کا ایک سرکردہ کمانڈر تھا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں فریقین کے درمیان خونریز جھڑپ کئی گھنٹے تک جاری رہی۔ اس لڑائی میں تین پولیس اہلکار اور مورچہ بند طالبان کمانڈر سمیت دونوں باغی مارے گئے۔

صدیق صدیقی نے بتایا کہ شہر میں پہلا پولیس ڈسٹرکٹ کہلانے والے علاقے کے ایک گھر میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملنے کے بعد اس جگہ کا محاصرہ کر کے مسلح با‌غیوں کو ہتھیار پھینکنے کے لیے کہا گیا۔ باغیوں نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کر دیا اور یوں فریقین کے مابین لڑائی شروع ہو گئی۔

Anschlag auf einen deutschen Kommandeur in Afghanistan NO FLASH

پولیس اور باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہو گئے

سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا طالبان کمانڈر ’مُلا کار‘ نامی عسکریت پسند رہنما تھا۔ صدیق صدیقی کے بقول اس لڑائی میں متعلقہ شہری علاقے کا پولیس کمانڈر بھی مارا گیا جس کا نام گلاب خان بتایا گیا ہے۔

اس سے پہلے قندھار میں صو بائی پولیس کے نائب سربراہ نے کہا تھا کہ قریب نو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے اور زخمیوں کی تعداد آٹھ بتائی گئی تھی۔ زخمیوں میں سے چھ پولیس اہلکار اور دو عام شہری بتائے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق یہ خونریز جھڑپ ختم ہونے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے جب دہشت گردوں کے زیر استعمال گھر کی تلاشی لی تو وہاں سے انہیں دیسی ساخت کے کئی بم اور بہت سا اسلحہ بارود بھی ملا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ ایکشن افغان پولیس اور بارڈر گارڈز نے مل کر کیا، جس دوران انہیں غیر ملکی فوجی دستوں کی بالواسطہ مدد بھی حاصل رہی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس