1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندھار میں خودکش بم حملہ، 17 افراد ہلاک

جنوبی افغانستان میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دھماکے کا اصل ہدف ایک افغان پولیس کمانڈر تھا۔

default

پولیس کے مطابق یہ حملہ پاکستان کے ساتھ سرحد کے قریب ہی واقع سپِن بولداک کے علاقے میں کیا گیا۔

سن 2001ء میں افغانستان پر کیے گئے امریکی حملے کے بعد سے اب تک طالبان کی جانب سے خصوصاﹰ جنوبی افغانستان میں درجنوں خودکش حملے کیے جا چکے ہیں تاہم ان حملوں میں ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے کہ براہ راست عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

افغانستان کی سرحدی پولیس کے اعلیٰ عہدیدار جنرل عبدالرزاق کے مطابق ایک خودکش حملہ آور ایک عوامی تقریب میں داخل ہوا جہاں اس نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ عبدالرزاق کے مطابق حملہ آور نے یہ دھماکہ خیز مواد اپنے سینے پر باندھ رکھا تھا۔

Afghanistan Kriegsopfer im Krankenhaus Kabul

اس واقعے میں 21 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں

قندھار کے صوبائی ترجمان نے اس واقعے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں 21 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ قندھار کی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملہ آور کا ہدف رمضان نامی ایک پولیس کمانڈر تھا۔ تاہم صوبائی انتظامیہ نے اس کمانڈر کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری فی الحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی لیکن صوبائی حکام کا خیال ہے کہ جس طرح کا یہ حملہ تھا، اس سے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ کارروائی صرف طالبان ہی کی ہو سکتی ہے۔

طالبان گزشتہ نو برسوں سے امریکی حمایت یافتہ کرزئی حکومت اور افغانستان میں متعین امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اسی ہفتے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے افغانستان میں مزید 14 سو فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد بنتی ہے۔ گیٹس کے مطابق اس نئی فوجی تعیناتی سے طالبان پر دباؤ میں اضافہ ہو گا، جو روایتی طور پر ہر سال موسم بہار میں زیادہ فعال ہو جاتے ہیں اور ان کے حملوں میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں ہونے والے دو مختلف پرتشدد واقعات میں تین نیٹو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ تین فوجی دو بم حملوں کا نشانہ بنے۔ ان میں سے ایک بم حملہ عسکریت پسندوں کی طرف سے جنوبی افغانستان میں کیا گیا، جس میں ایک نیٹو فوجی ہلاک ہوا جبکہ دو فوجی مشرقی افغانستان میں کئے گئے ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے۔ آئی سیف کی طرف سے ان فوجیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM