1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندھار حملے اسامہ کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی کوشش ہے، کرزئی

طالبان عسکریت پسندوں نے افغان صوبہ قندھار کے دارالحکومت میں گورنر آفس سمیت کئی حکومتی دفاتر پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں چھ خودکش دھماکے بھی شامل ہیں۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

default

افغانستان کے شورش زدہ جنوبی صوبہ میں طالبان کی طرف سے حملوں کا آغاز آج ہفتے کی دوپہر سے ہوا اور شام تک شہر کے مختلف مقامات سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر سے جاری کیے جانے والے ایک تازہ بیان میں طالبان کی طرف سے ان حملوں کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی ایک کوشش قرار دیا گیا ہے۔

طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ 30 افرادکے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حملوں کے اس سلسلے کا آغاز قندھار شہر کے وسط میں واقع گورنر کے رہائشی اور دفتری کمپاؤنڈ پر دھماکے سے ہوا۔ جس کے بعد متعدد دیگر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شہر بھر میں کم از کم 10 دھماکے سنے گئے۔

قندھار میں کیے جانے والے حملوں میں گزشتہ ماہ جیل سے فرار ہونے والے طالبان شامل ہیں، طالبان ترجمان

قندھار میں کیے جانے والے حملوں میں گزشتہ ماہ جیل سے فرار ہونے والے طالبان شامل ہیں، طالبان ترجمان

دھماکے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ روئٹرز نے اپنے نامہ نگار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے گورنر کے کمپاؤنڈ کے قریب واقع ایک پانچ منزلہ عمارت سے مسلح افراد کو گورنر کے دفتر کی طرف فائرنگ کرتے دیکھا، جس کا جواب گورنر کے سکیورٹی گارڈز کی طرف سے بھی دیا گیا۔

قندھار گورنر طور یلائی ویسا کے ترجمان زلمائی ایوبی کے مطابق حملے کے وقت گورنر مکان کے اندر موجود تھے اور ترجمان کے مطابق وہ بخیریت ہیں۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد قندھار کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ صوبہ قندھار کو طالبان کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان قاری یوسف احمدی کے بقول قندھار میں حکومتی دفاتر پر کیے جانے والے ان حملوں میں قریب ایک سو عسکریت پسند شریک ہیں، جن میں وہ گزشتہ ماہ جیل سے فرار ہونے والے بعض طالبان بھی شامل ہیں۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس