1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندوز ہسپتال میں امریکی گاڑی، ’شواہد مٹانے کی ممکنہ کوشش‘؟

رواں ماہ افغان شہر قندوز میں ایک بین الاقومی تنظیم کی نگرانی میں چلنے والے ہسپتال پر امریکی بمباری میں ہلاکتوں کے بعد کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے اپنی ایک گاڑی اس ہپستال میں بھیجی، جو ممکنہ طور پر شواہد مٹانے آئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کی سہ پہر ایک امریکی عسکری گاڑی اور فوجی اس ہسپتال کے مرکزی آہنی دروازے کو توڑتے اور رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اندر داخل ہوئے، تاہم انہیں شاہد خبر نہیں تھی کہ بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈز MSF کا اسٹاف بشمول ریاستی ڈائریکٹر گوئلہم مولینی ہسپتال ہی میں موجود ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ یہ فوجی ٹیم بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہسپتال میں داخل ہوئی اور وہاں اسٹاف کو موجود دیکھ کر ان سے اس بابت بحث کرنے لگی کی اس حملے سے متعلق امریکی تفتیش کے لیے انہیں ہپستال میں داخل ہونے دیا جائے۔ MSF کا کہنا ہے کہ اس موقع پر تنظیم کے مقامی اور غیرملکی ارکان ہسپتال میں موجود تھے۔

رواں ماہ کی تین تاریخ کو اس ہسپتال پر امریکی فضائی حملے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈز نے اس واقعے کو جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اس کی تحقیقات اس کنوینشن کے تحت کی جانا چاہیں۔

MSF Medecins Sans Frontieres Krankenhaus Kunduz NATO US Angriff

حملے میں اس ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا

اے ایف پی کے مطابق امریکی فوجیوں اور MSF اسٹاف کے درمیان یہ بات چیت نصف گھنٹے تک جاری رہی، جس کے بعد فوجیوں کو اس شرط پر ہسپتال کے اندر داخلے کی اجازت دی گئی کہ وہ اپنے ہتھیار ایک طرف رکھ دیں۔

ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈز کی ایک ترجمان نے ہسپتال میں داخلے کی اس امریکی فوجی کوشش کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا، ’اس سلسلے میں MSF اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے درمیان یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جائے واقعہ تک رسائی سے قبل MSF کو مطلع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں تنظیم کے اسٹاف یا املاک سے تفتیش کے ہرقدم پر اسے اطلاع دی جائے گی۔‘

اس خاتون ترجمان کا مزید کہنا تھا، ’غیراعلانیہ اور ہسپتال میں طاقت کے زور پر داخل ہونے کی کوشش، املاک کا نقصان اور MSF اسٹاف کو دباؤ کا شکار کرنا اور خوف زدہ کرنا، اس واقعے سے متعلق شواہد کو مٹانے کی ایک ممکنہ کوشش ہو سکتی ہے۔‘

اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی ایک ترجمان نے کہا، ’ہم اس واقعے سے آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اصل میں کیا معاملہ پیش آیا۔‘

رواں ماہ کے آغاز پر پیش آنے والے اس واقعے میں اس عالمی طبی امدادی تنظیم کے 14 ارکان اور ہسپتال میں داخل 10 مریض ہلاک ہو گئے تھے جب کہ اب بھی دس افراد لاپتہ ہیں۔

اس ہسپتال پر حملے اور ہلاکتوں کی وجہ سے عالمی سطح پر شدید تنقید جاری ہیں، کیوں کہ قندوز میں واقع یہ ہسپتال شدید زخمی افراد کے لیے زندگی کی واحد نوید تھی اور اس واقعے کے بعد MSF نے یہ ہسپتال بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔