1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندوز پر طالبان کیسے قابض ہوئے؟ انکوائری رپورٹ منظر عام پر

طالبان نے حال ہی میں عارضی طور پر قندوز پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب تفتیش کاروں کی طرف سے ایک انکوائری رپورٹ پیش کی گئی ہے، جس کو پڑھ کر یقین نہیں آتا کہ افغان قیادت حقیقت میں اس قدر کمزور ہو چکی ہے۔

حال ہی میں افغان طالبان نے شمالی شہر قندوز پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ پیش رفت نہ صرف صدر اشرف غنی بلکہ ان مغربی قوتوں کے لیے بھی ایک دھچکے سے کم نہیں تھی، جو گزشتہ چودہ برسوں سے وہاں جنگ میں مصروف رہی ہیں۔ تفتیشی رپورٹ کی تیاری میں شامل افغان نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ امر اللہ صالح کا کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’سب سے بڑی ناکامی قیادت کی تھی۔ اس دن کسی کو یہ ہی نہیں پتہ تھا کہ انچارج کون ہے؟‘‘

امر اللہ صالح کو صدر اشرف غنی کی طرف سے تفتیشی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا تاکہ ناکامی کی وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس رپورٹ میں فوج یا حکومتی عہدیداروں پر الزام تو نہیں عائد کیا گیا لیکن نیشنل سکیورٹی کونسل میں اصلاحات لانے کے لیے تجاویز ضرور پیش کی گئی ہیں۔ یہ افغان ادارہ ملکی سلامتی کا نگران ادارہ ہے اور صدر اس کا سربراہ ہوتا ہے۔

طالبان اچانک حملہ کرتے ہوئے قندوز پر تین دن تک قابض رہے تھے جبکہ بعدازاں امریکی فضائیہ کی مدد سے افغان فورسز دوبارہ اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ امر اللہ صالح کا اقرار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی فورسز ہی کی وجہ سے طالبان قندوز کے ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے تھے لیکن اس رپورٹ میں یہ ذکر تک نہیں کیا گیا کہ قندوز کے ہسپتال پر امریکی بمباری کی وجہ کیا تھی؟ اس امریکی بمباری کی وجہ سے ہسپتال میں موجود بائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس تحقیقاتی ٹیم نے ان الزامات کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ طالبان کے قبضے کے وقت حکومتی فورسز کے پاس اسلحے یا پھر خوراک کی کمی تھی لیکن فورسز کے ’’پیچیدہ ڈھانچے‘‘ کو تنقید کا نشانہ ضرور بنایا گیا ہے۔ ابھی تک کسی بھی سرکاری ترجمان نے اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن قندوز پر طالبان کے قبضے سے وہ تمام تر حکومتی دعوے ہوا میں اڑ گئے تھے، جن کے مطابق ملکی سکیورٹی فورسز افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

طالبان کے اس قبضے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے ایک مرتبہ پھر افغانستان کی صورتحال کو ’’نازک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے تقریباﹰ دس ہزار فوجی فی الحال افغانستان میں ہی رہیں گے۔