1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندوز میں بم دھماکہ، انٹیلی جنس اہلکار ہلاک

افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں جمعرات کی صبح ایک کار بم دھماکہ ہوا، جس میں ایک انٹیلی جنس اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ اس حملے میں تین بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔

default

صوبائی پولیس کے ترجمان سرور حسینی کا کہنا ہے کہ بم قندوز میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے ضلعی سربراہ پائندہ خان کی کار میں نصب تھا۔

حسینی نے قبل ازیں پائندہ خان کو نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (NDS) کا صوبائی سربراہ بتایا تھا۔ تاہم بعدازاں انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ پر موجود اہلکاروں نے انہیں غلط معلومات فراہم کی تھیں۔

ابھی دو روز قبل ہی خود کش حملہ آوروں نے شہر میں غیرملکیوں کے زیر استعمال ایک گیسٹ ہاؤس کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں چار سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے تھے۔ گیسٹ ہاؤس پر رواں ہفتے منگل کو کیے گئے حملے میں تین خودکش بمبار ملوث تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہلاک ہونے والے مقامی سکیورٹی اہلکار ایک جرمن کمپنی کے ملازم تھے۔

افغانستان کا شمالی علاقہ قدرے پر امن خیال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ کچھ برسوں میں وہاں بڑے اہداف کو پے درپے نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہاپسند جنوب کے اپنے روایتی مرکز سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

Afghanistan ISAF Soldaten aus Kanada im Provinz Kandahar

افغانستان میں غیرملکی افواج نے2001ء میں طالبان کی حکومت گرا دی تھی

افغانستان کے شمالی علاقے کے پولیس سربراہ جنرل داؤد رواں برس مئی میں ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ جون میں قندوز میں ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کے وقت بھی ایک خود کش دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس حملے کا اصل ہدف صوبہ قندوز کے پولیس سربراہ سمیع اللہ قطرہ تھے، جن کے پیشرو مارچ میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی قیادت میں غیرملکی افواج کی جانب سے 2001ء میں طالبان کی حکومت گرائے جانے کے بعد سے افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں کا زور ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس عرصے میں ایسی کارروائیوں کے نتیجے میں غیرملکی فوجی بڑی تعداد میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ شہری ہلاکتیں بھی ریکارڈ رہی ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس