1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندوز رپورٹ : جرمن وزیر دفاع پر دباؤ میں اضافہ

افغان صوبے قندوز میں ستمبر کے ماہ میں ہونے والے متنازعہ فضائی حملے کے حوالے سے نئے نئےانکشافات پر جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈورسوگوٹن بیرگ پر اراکین پارلیمان کی طرف سے دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

default

متنازعہ قندوز حملے کو تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا مگر روزآنہ نئے نئے انکشافات کی وجہ سے وفاقی جرمن پارلیمان میں اس حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور وزارت دفاع کی جانب سے متضاد بیانات کے باعث گونج کسی صورت کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

Karl-Theodor zu Guttenberg

گوٹن بیرگ کو میڈیا کی تنقید کا بھی سامنا ہے

نیوز میگزین Stern نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر میں وزارت دفاع کا قلمندان سنبھالنے والے سو گوٹن بیرگ کو چھ نومبر کو ریڈ کراس کی رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس حملے میں بچوں سمیت 74 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس میگزین نے الزام عائد کیا کہ سو گوٹن بیرگ نے اس رپورٹ کے باوجود اپنے بیان میں اس حملے کو جائز قرار دیا تھا۔ اخبار کے مطابق سو گوٹن بیرگ نے بھی سابق وزیردفاع فرانز ژوزف یونگ کی طرح اہم معلومات پارلیمان سے چھپانے کی کوشش کی۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی بیان میں گوٹن بیرگ نے اس حملے کو ’’لازمی فوجی ضرورت‘‘ گردانا تھا تاہم بعد میں گوٹن بیرگ نے اسے ایک بڑی غلطی قرار دیا۔ اس حملے کے حوالے سے متضاد بیانات کے باعث جرمن وزیر دفاع سو گوٹن بیرگ کو ان دنوں بے شمار سوالات کا سامنا ہے۔ جرمن وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں کو درست قرار دینے سے متعلق بیان گوٹن بیرگ نے اس واقعے کے حوالے سے تفتیشی رپورٹ کے مطالعے سے قبل دیا تھا اور حکومت کسی بھی عام شہری کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتی ہے۔

Bundesverteidigungsminister Karl-Theodor zu Guttenberg, lEx- Bundesverteidigungsminister Franz Josef Jung

سو گوٹن بیرگ سابق وزیردفاع فرانز ژوزف یونگ کے ہمراہ

سوگوٹن بیرگ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا: قندوز میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اپنے موقف کی نئے سرے سے وضاحت کا جو وعدہ میں نے آپ سے کیا تھا، وہ میں ضرور پورا کروں گا لیکن تب، جب ان تمام نئی جامع دستاویزات کے مطالعے سے مجھ پر سارا منظر واضح ہو جائے گا، جو مجھے اب فراہم کی گئی ہیں۔‘‘

چار ستمبر 2009ء کو ہونے والے متنازعہ قندوز حملے میں دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ حملے قندوز میں متعین جرمن افواج کے ایک کمانڈر کی ہدایات پر نیٹو طیاروں کی جانب سے کئے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ یہ آئل ٹینکرز عسکریت پسندوں نے اغواء کر لئے تھے۔ تاہم بعد میں یہ خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ ان حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے معلومات چھپانے کے الزامات پر فرانز ژوزف یونگ نے وزارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM