قندوز دوبارہ افغان فوج کے کنٹرول میں | حالات حاضرہ | DW | 01.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندوز دوبارہ افغان فوج کے کنٹرول میں

افغان سکیورٹی دستوں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات بڑی کارروائی کرتے ہوئے شمالی شہر قندوز پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ صوبہ قندوز کے اسی نام کے دارالحکومت کو طالبان عسکریت پسندوں نے پیر کے روز اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

کابل سے جمعرات یکم اکتوبر کی صبح ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق عسکری حوالے سے انتہائی اہم قندوز شہر پر طالبان کا قبضہ تین روز تک برقرار رہا اور وہاں افغان سکیورٹی دستوں کی شدت پسندوں کے ہاتھوں شکست کابل حکومت کی نیٹو ماہرین کی طرف سے تربیت یافتہ فورسز کے لیے ایک تکلیف دہ دھچکا ثابت ہوئی تھی۔

DW.COM

اے ایف پی نے کابل میں افغان حکومتی نمائندوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ گزشتہ پیر کے روز قریب دو ہزار طالبان جنگجوؤں نے قندوز پر قبضہ کر لیا تھا تاہم تیس ستمبر اور یکم اکتوبر کی درمیانی رات ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد کابل حکومت کی فورسز اس شہر کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب ہو گئیں۔

افغان حکومتی فورسز کی طرف سے قندوز پر قبضے کے دعووں کے بعد طالبان کی مقامی قیادت نے فوری طور پر یہ تردید کر دی تھی کہ عسکریت پسندوں کو اس شہر میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پھر جب کابل میں حکومتی نمائندوں نے بھی اس عسکری کامیابی کی تصدیق کر دی تو طالبان کی طرف سے اس پیش رفت کی تردید پس منظر میں چلی گئی۔

اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ شمالی شہر قندوز پر طالبان عسکریت پسندوں کا قبضہ اگرچہ چند روزہ ہی ثابت ہوا تاہم جنگجوؤں کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کو ان شدت پسندوں کی طرف سے کس قدر سخت مزاحمت کا سامنا ہے، جو زیادہ تر ملک کے جنوب میں اپنے زیر اثر علاقوں کے بعد اب دیگر خطوں میں بھی اپنے قدم جمانا چاہتے ہیں۔

مقامی شہریوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ آج جمعرات کی صبح تک حکومتی دستے قندوز شہر کے وسطی حصے کو اپنے کنٹرول میں لے چکے تھے تاہم شہر کے چند علاقوں میں سرکاری دستوں کی طالبان باغیوں کے ساتھ جھڑپیں ابھی تک جاری ہیں۔

Afghanistan Polizei Kampf gegen Taliban nach Einnahme Kundus

گزشتہ پیر کے روز قریب دو ہزار طالبان جنگجوؤں نے قندوز پر قبضہ کر لیا تھا

افغانستان کے نائب وزیر داخلہ ایوب سالنگی نے صحافیوں کو بتایا کہ قندوز شہر پر کابل حکومت کی فورسز کا دوبارہ قبضہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کیے جانے والے ایک ’اسپیشل سکیورٹی آپریشن‘ کے بعد ممکن ہو سکا۔

قندوز پر قبضے کے دوران اور بعد میں طالبان نے کئی سرکاری عمارات کا کنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی جیلوں میں قید اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو بھی رہا کرا لیا تھا اور شہر میں جگہ جگہ اپنے پرچم بھی لہرا دیے تھے۔