1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قندوز حملے میں ملوث ملزم رہا، فیصلے پر جرمن فوج کی تنقید

جرمن فوج کے ایلیٹ کمانڈو یونٹ ’کے ایس کے‘ نے اپنے ایک بیان میں جرمن فوج پر حملے میں ملوث ایک شخص کی رہائی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس مشتبہ دہشت گرد کو مارچ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

default

جرمن فوج کے ’ کے ایس کے‘ یونٹ کے مطابق محمد نعیم نامی شخص کو رہا کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ یہ رہائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب غیر ملکی دستے سلامتی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کو سونپ رہے ہیں۔ محمد نعیم کو جرمن فوج نے افغان دستوں کے تعاون سے رواں سال مارچ میں گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ گزشتہ برس جرمن فوج پر کیے جانے والے حملے میں شریک تھا۔ اس حملے میں تین جرمن فوجی ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

KSK Kommando Spezialkräfte in Tarnuniform

جرمن فوج کا یہ کمانڈو یونٹ خفیہ کارروائیوں کی وجہ سے مشہور ہے

نعیم کوکابل حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ جرمن فوجی ذرائع کے مطابق دوران تفتیش محمد نعیم نے اعتراف کیا کہ وہ قندوز میں جرمن فوجی اڈے کے قریب ہونے والی اس لڑائی میں شریک تھا۔ مزید یہ کہ جون میں اُسے ناکافی ثبوت کی بناء پر رہا کر دیا گیا۔ جرمن فوج کا یہ کمانڈو یونٹ خفیہ کارروائیوں کی وجہ سے مشہور ہے اور اس کی جانب سے بہت کم ہی بیانات جاری کیے جاتے ہیں۔

گزشتہ روز جرمنی میں بہت زیادہ پڑھے جانے والے اخبار ’بلڈ‘ نے جرمن فوج کی ایک جلی ہوئی فوجی گاڑی کی تصویر شائع کی تھی۔ اس گاڑی کوگھیرے ہوئے بہت سے افراد کھڑے ہیں اور ایک ہنستا مسکراتا چہرہ بھی اس تصویر میں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ محمد نعیم ہے۔ اخبار نے ایک جرمن فوجی کے حوالے سے لکھا ہے کہ رہائی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کابل میں محمد نعیم کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔

برلن میں سابق جرمن فوجیوں کی ایک تنظیم نے برلن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں کابل حکام سے رابطہ کرتے ہوئے اس معاملے کو حل کرے۔ اس تنظیم کے نائب سربراہ اندرے ویوسٹنر کے بقول افغان حکام نے وعدہ کیا تھا کہ جرمن افواج پر حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے ان خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم پہلے سے گرفتار شدہ ایک شخص کو رہا کرنے سے جرمن فوجیوں کا افغانستان کے نظام انصاف پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : شامل شمس

DW.COM