1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندوز حملہ درست تھا، نو منتخب جرمن وزیر دفاع

نومنتخب جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈور سو گوٹن برگ نے کہا ہے کہ ستمبر میں افغانستان کے علاقے قندوز میں اغواشدہ آئل ٹینکروں پر فضائی حملہ عسکری اعتبار سے درست تھا۔ شہریوں کی ہلاکت کے باعث اس حملے پر کڑی تنقید کی جاتی رہی۔

default

فائل فوٹو

رواں ستمبر میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے جنگی طیاروں نے جرمن فوج کے ان دو آئل ٹینکروں پر بمباری کی تھی، جنہیں طالبان نے قندوز میں اغوا کر لیا تھا۔ اس واقع میں متعدد شہری بھی ہلاک ہوئے۔ آئل ٹینکرز پر بمباری کرنے کا حکم ایک جرمن فوجی افسر نے دیا، جنہیں طالبان کی جانب سے حملے

PK CSU Karl Theodor zu Guttenberg

نومنتخب جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈور سو گوٹن برگ

کا شبہ تھا۔ اس کے بارے میں نیٹو کی تفتیشی رپورٹ پر نو منتخب جرمن وزیر دفاع اور کرسچن سوشل یونین سی ایس یو کے سیاستدان کارل تھیوڈور سو گوٹن برگ نے اپنا موقف پیش کیا ہے۔

افغانستان میں جرمن فوج کی تعیناتی کے آغار سے اب تک پہلی مرتبہ جرمن وزیر دفاع نے اپنے فوجیوں کی تربیت کے فقدان اور ان کے اقدامات میں نقص کا کھل کر اقرار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے جرمن وزیر دفاع نے اْس خاص واقعے ، جسے اب پس پردہ رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی، کے ضمن میں اپنے فوجیوں کا دفاع کیا ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ قندوز میں آئل ٹینکر پر فضائی حملہ کرنے کا حکم جرمن فوج کے ایک کرنل نے نہایت اجلت میں دیا، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں، جن میں طالبان کے ساتھ ساتھ شہری بھی شامل تھے۔

جرمن فوج کے کرنل نے غالباً ایسا اس خطرے کے باعث کیا تھا کہ اگر فضائی حملہ نا کیا گیا تو طالبان آئل ٹینکرز کو جرمن فوج پر حملہ کرنے کے لئے استعمال کریں گے۔ جرمن وزیر دفاع سو گوٹن برگ جرمن فوجی افسر کے اس خیال کو درست سمجھتے ہوئے۔ وہ حملے کے حکم کو ’عسکری اعتبار سے ایک مناسب قدم قرار دے رہے ہیں۔'میں بذات خود اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تمام خطرات کے پیش نظر فضائی حملے عسکری اعتبار سے بالکل مناسب تھے۔'

Nato Angriff Afghanistan

قندوز بمباریی کے بعد کا منظر

جرمن وزیر دفاع نے اپنے اس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا:'اس ضمن میں بہت سے مفروضے پیش کئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ممکنہ طور پریہ آئل ٹینکر دو روز تک ریت کے اندر چھپا رہتا۔ یا شاید یہ بھی ہو سکتا تھا کہ پانچ منٹ کے اندرمغوی آئل ٹینکر کو چھوڑ دیا جاتا۔ اس تمام تذبدب میں کوئی لمحہ تو ایسا آنا تھا جس میں فیصلہ ہونا ضروری ہوتا۔ اگر اس تمام منظر نامے کو نظر میں رکھا جائے تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔'

تاہم جرمن وزیر دفاع نے اس امر پر زور دیا ہے کہ آئندہ شہریوں کو اس قسم کے واقعات کا شکار ہونے سے بچانے کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔

دوسری جانب جرمن شہر ڈریسڈن میں ریاستی دفتر استغاثہ نے اپنی طرف سے اس معاملے کی چھان بین کا عمل اب کارلسروہے میں جرمن ریاست کے اعلیٰ ترین قانونی تفتیشی حکام کو منتقل کر دیا ہے۔ تاہم جرمن وزیر دفاع نے کہا ہے کہ جرمن فوجیوں کو قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM