قندوزمیں لڑائی کے باعث مزید ہزاروں افغان بے گھر | معاشرہ | DW | 10.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قندوزمیں لڑائی کے باعث مزید ہزاروں افغان بے گھر

افغانستان کے شہر قندوز میں سکیورٹی فورسز اور طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان جاری لڑائی کے سبب قریب 24 ہزار شہریوں کو مجبوراﹰ اپنا گھر بار چھوڑ نا پڑا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی طرف سے بتائی گئی ہے۔

اقوم متحدہ کے ’آفس فار دی کوارڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز (OCHA) کی طرف سے اتوار نو اکتوبر کی شب بتایا گیا ہے داخلی طور پر بے گھر ہونے والے زیادہ تر افراد نے تالوکان، کابل، مزارِ شریف اور پُلِ خُرمی جیسے شہروں کا رُخ کیا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کا کہنا ہے کہ  مہاجرین سے متعلق افغان وزارت کے بقول  قندوز کی لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے افغانوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

OCHA کی جانب سے کہا گیا ہے، ’’پناہ، صفائی، خوراک اور زخمیوں، بچوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں اور شدید بیمار افراد کے لیے طبی امداد کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔‘‘

طالبان کی طرف سے قندوز پر حملے کا آغاز پیر تین اکتوبر کو ہوا تھا۔ ایک برس قبل بھی اس عسکریت پسند گروپ نے عسکری اعتبار سے اہم شہر قندوز پر دو ہفتوں کے لیے قبضہ کر لیا تھا تاہم بعد میں افغان سکیورٹی فورسز نے طالبان کو نکال باہر کیا تھا۔

Afghanistan Kämpfe gegen Taliban in Kundus (Reuters/N. Wakif)

افغان حکومت نے کہا ہے کہ قندوز شہر کے مرکزی حصے کو طالبان جنگجوؤں سے خالی کرا لیا گیا ہے

قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن سید اسد اللہ سادات کے مطابق افغان حکومتی فورسز گزشتہ ایک ہفتے سے قندوز کے مختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف لڑ رہی ہیں تاہم صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے سادات کا کہنا تھا، ’’افغان فوج کے کمانڈوز رات کو ایک علاقہ خالی کراتے ہیں مگر دن کے وقت طالبان واپس اُس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔‘‘

دریں اثنا افغان حکومت نے کہا ہے کہ قندوز شہر کے مرکزی حصے کو طالبان جنگجوؤں سے خالی کرا لیا گیا ہے جبکہ شہر کے مضافات سے طالبان کو پیچھے دھکیلنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ افغانستان کے شمالی زون کی پولیس ترجمان محفوظ اللہ اکبری کے مطابق، ’’گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 200 سے زائد طالبان عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔‘‘ ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا، ’’آپریشن کے سست رفتار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز عام شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دینا چاہتیں۔‘‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی طیاروں نے قندوز میں طالبان کے خلاف لڑنے والی افغان فورسز کی مدد کے لیے طالبان کے خلاف اب تک 20 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔