1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندور حملہ اور جرمن وزیر دفاع پر بڑھتا دباؤ

جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈور سو گٹن برگ نے قندوز حملے کے واقعے میں نئے الزامات کی تردید کی ہے۔ نئے الزامات میں کہا گیا ہے کہ سو گٹن برگ نے قندوز متنازعہ حملے کے نتیجے میں دواعلی حکام کے مستعفی ہونے لئے غلط طور پر دبا تھا۔

default

جرمن وزیر دفاع سو گٹن برگ اپنے دورہ افغانستان کے دوران صدر حامد کرزئی کے ساتھ

ایک جرمن اخبار بلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے جرمن وزیر دفاع نے اِس امرکی تصدیق کی ہے کہ چار ستمبر کے قندور ہوائی حملے کے حوالے سے جرمن وزارت دفاع کے حکام نے اہم اطلاعات کو اپنے تک محدود رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اِن اطلاعات کی اعلیٰ حکومتی حلقوں تک نہ پہنچائے جانے کی ذمہ داری دو سینئر دفاعی اہلکاروں نے قبول کر لی ہے۔

اِن افراد میں ایک جرمن فوج کےسابقہ سربراہ جنرل وولف گانگ شنائیڈرہان اور دوسرے نائب وزیر دفاع پیٹر وشرٹ شامل ہیں۔ دونوں احباب گزشتہ ماہ اپنے عہدوں سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔ اُن کے

Bundesverteidigungsminister Karl-Theodor zu Guttenberg

قندوز حملوں پر جاری کردہ بیانات پر سو گٹن برگ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے

مستعفی ہونے کے بعد سے جرمنی کے سیاسی حلقوں میں زوردار بحث جاری ہے۔ دوسری جانب دو دوسرے جرمن اخبارت ڈیئر شپیگل اور فرینکفورٹر الگیمائنے نے وزیر کے بیان کو درست نہیں قرار دیا۔ ان کے مطابق دونوں اہلکاروں نےسو گٹن برگ کو مطلوبہ معلومات فراہم کی تھیں۔

چار ستمبر کو مبینہ طور پر قندوز میں طالبان کے قبضے میں آئے ہوئے دو ٹینکروں کو چھڑانے کے سلسلے میں ہوائی حملے کا سہارا لیا گیا تھا۔ اِس فضائی کارروائی میں سو سے زائد عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

تازہ تنازعے کی تفصیلات کے مطابق ہوائی حملے کا نشانہ طالبان لیڈروں کا ایک گروپ تھا نا کہ دو آئل ٹینکرز۔ آئل ٹینکروں کو چھڑانے کا حوالہ جرمن حکومت اِس ہوائی حملے کے حوالے سے دیتی چلی آ رہی ہے۔ ایک اور جرمن جریدے زوڈ ڈوئچے سائٹنگ نے نیٹو کی ایک خفیہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمن فوجی افسر کرنل گیاگ کللائن کی خواہش تھی کہ فضائی حملہ ٹینکروں کے بجائے لوگوں پر کیا جائے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نئی معلُومات سے جرمن وزیر دفاع پر پہلے سے پیدا شدہ دباؤ دوچند ہو گیا ہے۔

سو گٹن برگ نے پہلے اِس حملے کو مناسب کہا تھا اور اب وہ اُس بیان کو بدل کر حملے کو نامناسب قرار دے رہے ہیں۔ اُن کے بیان بدلنے پر بیشترجرمن سیاستدان اب طالبان لیڈروں پر ہوائی حملے کی تمام تفصیلات عام کرنے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اِس میں گرین پارٹی نمایاں ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اپوزیش جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اِس واقعے کے تناظر میں دوسری جڑی تفصیلات کی روشنی میں باقاعدہ پیشی کا عمل پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے کیا جائے۔

Generalinspekteur Wolfgang Schneiderhahn

جرمن فوج کے سابقہ سربراہ جنرل وولف گانگ شنائیڈرہان

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ زیگمار گبریل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تازہ تفصیلات کی مناسبت سے حکومتی تشریحات ناکافی ہیں۔ گبریل کا مزید کہنا ہے کہ روزانہ میڈیا کے ذریعے نئی ڈرامائی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نے سو گٹن برگ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے منصب سے مستعفی ہونے پر بھی غور کریں۔ اِسی واقعے کی تفصیلات سامنے آنے پر اُس وقت کے وزیر دفاع فرانز یوزف یُنگ اور موجودہ وزیر محنت پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM