1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قفقاذ کے جہادی روس کو نشانہ بنائیں: شامی النصرہ فرنٹ

شام میں روسی سفارت خانے کے احاطے میں دو مارٹر گولے کرنے کا بتایا گیا ہے۔ دوسری جانب فضائی حملوں کے شروع ہونے کے بعد ایک شامی باغی گروپ نے قفقاذ کے انتہا پسندوں کو سرگرم ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

خانہ جنگی کے شکار عرب ملک شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنے والے ایک اہم عسکری گروپ النصرہ فرنٹ نے روس کے قفقاذ علاقے کی مسلمان جمہوریاؤں کے عسکریت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ متحرک ہو کر روسی عوام اور فوجیوں کو نشانہ بنائیں۔ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ وابستگی رکھنے والے النصرہ فرنٹ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے روسی قفقاذ خطے کے مسلمان انتہا پسندوں سے کہا ہے کہ وہ شام پر روسی حملوں کے جواب میں ادلے کا بدلہ کے اصول پر اپنی کارروائیاں شروع کریں۔ الجولانی کا آڈیو پیغام کل پیر 12 اکتوبر کی شام جاری کیا گیا تھا۔

اُدھر دمشق میں دو مارٹر گولے روسی سفارت خانے میں گرنے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ شامی دارالحکومت میں روسی سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری ایلڈار قربانوف نے روسی نیوز ایجنسی تاس کو بتایا کہ گولوں کے گرنے سے کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔ لبنان کے شام نواز میڈیا گروپوں کے مطابق گولے اُس وقت سفارت خانے کے احاطے میں گرے جب روسی فضائی حملوں کی حمایت میں نکالی گئی ایک ریلی سفارت خانے کے باہر پہنچی تھی۔ بیس ستمبر کو بھی روسی سفارتخانے کے اندر ایک مارٹر شیل گرا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آج گرنے والے گولے ریلی پر پھینکے گئے تھے یا اِن کا نشانہ ایمبیسی تھی۔

Nusra Front Abu Mohammed al-Golani

النصرہ فرنٹ کے سربراہ ابو محمد الجولانی کی فائل فوٹو

شام اور عراق میں سرگرم جہادی و دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف برسرِ پیکار شامی باغیوں کے لیے امریکا نے فضا سے اسلحہ پھینکا ہے۔ امریکی ہوائی جہازوں نے پیراشوٹ کے ساتھ باندھ کر یہ اسلحہ نیچے کھڑے جہادیوں کی جانب پھینکا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل پیٹرک رائیڈر نے بتایا کہ اتحادی افواج نے شمالی شام میں داعش کے خلاف لڑنے والوں کے لیے اسلحے کی فضائی سپلائی شروع کی ہے۔ رائیڈر کے مطابق یہ اسلحہ دو روز قبل اتوار کے روز پھینکا گیا تھا۔

انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شامی کردش پارٹی کے ورکروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ کئی دیہات کے ہزاروں لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کر چکے ہیں۔ شامی کردش پارٹی دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف قائم امریکی اتحاد کا حصہ ہے۔ ایمنسٹی کے سینیئر اہلکار لاما فقیہہ نے اِس جبری بیدخلی کو ناجائز اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جنگی حالات میں کسی با اختیار اتھارٹی کی عدم موجودگی میں شامی کردش پارٹی کے ورکرز بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ پارٹی کے ریسرچرز کے مطابق رواں برس اگست میں چودہ قصبوں اور دیہات کے باسیوں کو زبردستی بیدخل کیا گیا۔