1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قطر کی تنہائی ’اسلامی اقدار‘ کے خلاف ہے، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے خلیجی ممالک کی جانب سے قطر کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے سے متعلق اقدامات کو ’اسلامی اقدار‘ کے منافی قرار دیا ہے۔ ایردوآن کا یہ بیان اس موضوع پر کسی مسلم رہنما کا سخت ترین بیان ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے قطر کی مکمل ناکہ بندی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’اسلامی اقدار کے منافی‘ قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اس تنازعے کے اثرات خطے کے باہر تک دکھائی دے رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کی جانب سے قطر پر سفری پابندیاں عائد کرنے اور تمام سفارتی رابطے منقطع کر دینے کو آٹھ روز گزر چکے ہیں۔ ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر دہشت گردی کی معاونت کر رہا ہے، جب کہ دوحہ حکومت ایسے تمام الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دے کر رد کرتی ہے۔

روئٹرز کے مطابق دو اعشاریہ سات ملین آبادی کا ملک قطر اپنی ضروریات کی 80 فیصد اشیاء درآمد کرتا ہے اور اس کے ہم سایہ ممالک کی جانب سے اس پر سخت پابندیوں کی وجہ سے وہاں خوراک کی قلت کے خدشات ہیں۔ تیل اور گیس کی برآمدات پر انحصار کرنے والا ملک قطر ان پابندیوں کی وجہ سے کسی حد تک دباؤ کا شکار ہے اور اسی صورت حال میں متعدد بینکوں اور دیگر کاروباری اداروں نے وہاں اپنی سرگرمیاں کچھ محدود بھی کی ہیں۔

Katar nach dem Boykott (Getty Images/AFP)

قطر میں اشیائے خوردنوش کی کمی کے خدشات ہیں

انقرہ میں اپنی جماعت اے کے پارٹی کے ارکان سے خطاب میں رجب طیب ایردوآن نے کہا، ’’قطر کے معاملے میں ایک نہایت بھیانک غلطی کی گئی ہے۔ ایک قوم کو ہر طرح سے تنہا کرنے کے اقدامات غیرانسانی اور اسلامی اقدار کے منافی ہیں۔ یہ تو یوں ہے کہ قطر کے لیے سزائے موت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’قطر نے ترکی کے ساتھ مل کر اسلامک اسٹیٹ جیسی شدت پسند تنظیم کے خلاف انتہائی ٹھوس موقف اپنا رکھا ہے۔۔۔ قطر کو نشانہ بنانے کی کوشش کسی کے مفاد میں نہیں۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ ترکی نے موجودہ صورت حال میں بھی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ قطر کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر رکھے ہیں۔ ترکی اور قطر دونوں اخوان المسلمون کی حمایت کرتے ہیں، جب کہ یہ دنوں ممالک شام میں بشارالاسد کی حامی فورسز کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی معاونت بھی کرتے رہے ہیں۔