1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قطر کو دیا گیا الٹیمیٹم انٹرنیشنل قانون کے منافی ہے، ایردوآن

ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ خلیجی ریاست قطر کو سعودی عرب کی جانب سے دیا گیا الٹی میٹم بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ قطر نے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی جانب سے دی گئی اس مہلت اور مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔

Emir Tamim von Qatar und Erdogan (Picture alliance/dpa/Turkish President Press Office)

قطری امیر تمیم بن حمد الثانی اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے خلیجی ریاست قطر کو سعودی عرب اور دوسرے تین عرب ملکوں کی جانب سے تیرہ مطالبات کو تسلیم کرنے کے الٹی میٹم کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اُس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اتوار پچیس جون کو ترک صدر نے قطر کے اُس بیان کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں اُس نے سعودی مہلت اور مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔

ایردوآن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور اُس کے حلیفوں کی جانب سے جو تیرہ مطالبات کی فہرست قطر کو فراہم کی گئی ہے، وہ انٹرنیشنل قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ترک صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ قطر میں قائم ترک فوجی اڈے سے اُن کے فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ ترکی کے احترام کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

حال ہی میں ترکی کی حکومت نے قطر میں اپنے فوجی اڈے پر مزید فوجی تعینات کرنے کی پارلیمانی منظوری بھی حاصل کی ہے۔ اس بحران کے پیدا ہونے کے بعد سے ترکی کھل کر قطر کی حمایت میں ہے۔ حال ہی میں اُس نے چار ہزار ٹن خوراک سے لدا ایک بحری جہاز بھی قطر کو روانہ کیا ہے۔

Türkei Verladung von Lebensmitteln, Schiff nach Katar (picture-alliance/Anadolu Agency/C Oksuz)

قطر کے لیے ترکی سے روانہ کی گئی خوراک بحری جہاز سے اتاری جا رہی ہے

 ان مطالبات کے حوالے سے قطری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اُس کی جغرافیائی خودمختاری اور حاکمیت کے منافی ہونے کے علاوہ انتہائی غیرمناسب ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطری حکومت کو تیرہ نکات پر مشتمل مطالبات تسلیم کرنے ک مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان ملکوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ان مطالبات کے تسلیم کرنے سے قطر کے ساتھ پیدا تنازعے کا خاتمہ ہو جائے گا۔

دوسری جانب سفارت کاروں کا خیال ہے کہ ان مطالبات سے خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں پیدا بحران اور گہرا ہو گیا ہے۔ ان مطالبات میں الجزیرہ ٹیلی وژن نیٹ ورک کی بندش، ایران کے ساتھ تعلقات میں کمی اور ترک فوجیوں کی واپسی جیسے مطالبات شامل ہیں۔