1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’قطر کو ایک ڈالر کا گھاٹا، تو دوسروں کا بھی ایک ڈالر ضائع‘

قطری حکام کے مطابق عرب ممالک کی طرف سے پابندیوں کے باوجود قطر اپنی معیشت اور کرنسی کا دفاع کر سکتا ہے۔ دوسری جانب قطر نے خلیجی ممالک کو نظر انداز کرتے ہوئے اشیائے ضرورت کی درآمد کے لیے نیا سمندری راستہ اختیار کر لیا ہے۔

قطری وزیر خزانہ علی شریف العمادی کے بقول بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ صرف قطر کو ہی نقصان ہو گا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کے بقول اگر قطر کو ایک ڈالر کا گھاٹا ہوا، تو دوسروں کا بھی ایک ڈالر ضائع ہو گا۔ العمادی نے مزید کہا کہ ابھی تک ملک میں اشیائے صرف کی کوئی قلت نہیں تاہم ضرورت پڑنے پر ترکی، مشرق بعید اور یورپ سے اشیائے صرف درآمد کی جا سکتی ہیں۔

قطر پر پابندیوں کے بعد ملکی کرنسی کی قدر میں دس فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ دوسری جانب قطر نے خلیجی ممالک کو نظر انداز کرتے ہوئے اشیائے ضرورت کی درآمد کے لیے نیا سمندری راستہ اختیار کر لیا ہے۔ اس طرح قطری حکام اپنے ہمسایہ ممالک پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے تعاون کے بغیر بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس حوالے سے قطر نے عمان کی دو بندرگاہوں سے اشیاء کی براہ راست منتقلی کی خدمات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق حماد بندرگاہ پر  عمان کی سوہار اور سلالہ بندرگاہوں سے سامان لایا جا رہا ہے۔ قبل ازیں قطر اپنی خوراک کا چالیس فیصد حصہ سعودی سرحد کی طرف سے درآمد کرتا تھا۔

یاد رہے کہ دیگر خلیجی ممالک کے برعکس عمان نے بھی ایران کے ساتھ اپنی آزادانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ آج ایران نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس کی طرف سے قطر کے لیے پانچ امدادی بحری جہاز روانہ کر دیے گئے ہیں اور ان میں سے تین پر 350 ٹن اشیائے خوراک ہیں۔ خوراک کے حوالے سے ترکی نے بھی قطر کو اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

دوسری جانب قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان فرانس کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے اقدامات ’’غیرمنصفانہ اور غیر قانونی‘‘ ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اعلان کیا ہے کہ قطری اور ان کے شہری میاں بیوی اور بچے ان کے ملکوں میں قیام کر سکتے ہیں تاکہ پیچیدہ صورتحال سے بچا جا سکے۔ عمان حکومت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان ممالک کے اس اقدام کو مثبت حالات کی طرف پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

پیر کے روز برطانیہ اور ایران نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ قطر کی ناکہ بندی میں نرمی لے کر آئیں اور اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

دریں اثناء قطر کی سرکاری ایئرلائن کے سربراہ نے بین الاقوامی سول ایوی ایشن سے اپیل کی ہے کہ وہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی طرف سے  قطری ایئر ٹریفک پر لگائی جانے والی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دے۔ امریکا کے سی این این ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے قطر ایئر لائنز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اکبر البکر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ انٹرنیشنل سوی ایوی ایشن کے 1944ء کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم متحدہ عرب امارات اور بحرین تو اس کنونشن پر دستخط کر چکے ہیں مگر سعودی عرب اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔