1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

قطر میں ایشیا کپ، دوحہ کا آنکھوں دیکھا حال

ڈوئچے ویلے کے رپورٹر اروناوا چودھری قطر میں جاری ایشیا کپ فٹ بال کے مقابلے دیکھنے کے لئے دوحہ میں ہیں۔ ان مقابلوں کے موقع پر وہاں کا ماحول اور انتظامات کا آنکھوں دیکھا حال، انہی کی زبانی:

default

میں گزشتہ جمعرات کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچا۔ اس ایک ہفتے میں قطر اور دوحہ کے حوالے سے میرا تاثر کچھ مثبت ہے اور کچھ منفی۔ سب سے پہلے تو مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کی جدت کے اعتبار سے میری توقع کے برعکس اس شہر میں زندگی اس تیزی سے دوڑتی نظر نہیں آئی، جیسی خلیج فارس کے دوسرے کئی شہروں میں دکھائی دیتی ہے۔

دوحہ ایئرپورٹ پر اترتے ہوئے مجھے محسوس ہوا، جیسے دوحہ دبئی کا ایک چھوٹا ورژن ہے۔ یہ شہر ابھی اتنا ترقی یافتہ نہیں ہوا، جیسا میں نے سوچا تھا، تاہم یہاں کی انتظامیہ اپنی بھرپور کوشش میں مصروف ہے کہ کسی طرح اسے دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کی صف میں لا کھڑا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ دوحہ ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے اور اسی سلسلے کی ایک کڑی دوحہ کا نیا زیرتعمیر ایئرپورٹ بھی ہے۔

دوحہ میں خلیفہ سٹیڈیم کی جدید ترین عمارت بھی اس بات کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ سٹیڈیم سن 2006ء میں ایشیائی کھیلوں کے انعقاد کے لئے تعمیر کیا گیا ہے۔

مقامی افراد، اب بھی ٹریفک سگنل توڑتے ہوئے:

دوحہ میں ٹریفک ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دن کے مختلف اوقات میں یہاں کئی سڑکیں ٹریفک جام کا شکار رہتی ہیں۔ مقامی افراد ٹریفک بتیوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے، لہٰذا دوحہ میں ڈرائیونگ بھی کچھ آسان کام نہیں۔

Fußball Bayern Allstars Kalkutta

اروناوا چودھری

اب جبکہ دوحہ سن 2022ء کے فیفا ورلڈ کپ مقابلوں کے انعقاد کی بولی جیتنے میں کامیاب ہو چکا ہے، تو اسے اس سلسلے میں بہت کام کی ضرورت ہے۔ پیٹرول کی قیمت انتہائی کم ہے، اسی سبب مقامی افراد ہیوی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں، جو کسی طرح بھی ماحول دوست نہیں۔ اس شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے نظام کی اشد ضرورت ہے اور قطری انتظامیہ ان منصوبوں پر کام میں مصروف ہے۔

قطر، کھیلوں اور کاروباری سرگرمیوں کا عالمی مرکز بننے کا خواہشمند ہے تاہم اب بھی یہاں کی دنیا یکسر الگ دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر قطر میں شراب کی آسان دستیابی خاصی مشکل ہے۔

دنیا کا محفوظ ترین شہر:

دوحہ کو سلامتی کے حوالے سے کسی خاص مسئلے کا سامنا نہیں۔ عموما سڑکوں پر پولیس کی کوئی گاڑی شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم مقامی افراد عموماﹰ یہ کہتے نظر آتے ہیں، ’اگر کوئی مسئلہ ہوا یا تم نے کوئی غیر قانونی حرکت کی، تو پولیس 20 سیکنڈ سے بھی پہلے تم تک پہنچ جائے گی۔‘

مختلف گروپوں میں دلچسپ مقابلے:

ایشیا فٹ بال کپ کے پہلے مرحلے کے مقابلوں کا اختتام ہو چکا ہے۔ تاہم اس موقع پر جس چیز کی کمی دکھائی دی، وہ تھی سٹیڈیم میں مداحوں کی تعداد۔ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے میچ کے علاوہ کسی مقابلے میں بھی سٹیڈیم میں تماشائیوں کی بڑی تعداد نظر نہیں آئی۔ ورلڈ کپ 2022ء کے منتظمین کو شاید یہ بات یقینی طور پر ذہن میں رکھنی ہو گی کہ دنیا کے سب سے مقبول کھیل کے عالمی مقابلوں کے دوران بھی اگر تماشائیوں کی تعداد خاطر خواہ نہ ہوئی، تو یقینا قطر کے لئے یہ بات باعث ندامت ہو سکتی ہے۔

ترجمہ: عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس