1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قطر تنازعہ، کیا بھارتی مفادات بھی متاثر ہوں گے؟

بھارت نے خلیجی ممالک اور قطر کے درمیان جاری تنازعے کو گو کہ ان کا آپس کا مسئلہ قرار دیا ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ کشیدگی بڑھنے پر بھارتی مفادات بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔

بھارت میں بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ قطر کے خلاف سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے اقدامات سے گوکہ بھارت پر فوری طور پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اگر کشیدگی برقرار رہی اور اختلافات جلد ختم نہ ہوئے تو بھارت پر بھی اس کے اثرات پڑنا یقینی ہیں۔
اسٹرٹیجیک امور کے ماہر راجیو شرما نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ملکوں میں کشیدگی بڑھنے سے بھارت پر سب سے بڑا اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔ بھارت سب سے زیادہ تیل سعودی عرب سے لیتا ہے، جب کہ قطر سے بھارت سب سے زیادہ قدرتی گیس خریدتا ہے۔ یعنی بھارت کی انرجی سکیورٹی کے لحاظ سے یہ پورا خطہ اہم ہے۔ ایسے میں کشیدگی بڑھنے سے خام تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے گا، جس کا بوجھ بھارت کے عوام اور یہاں کی معیشت کو بھی اٹھانا پڑے گا۔ راجیو شرما کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں سے خام تیل کی قیمتیں کافی مستحکم رہی ہیں اور بھارت کو اس کا کافی فائدہ مل رہا ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کل اپنی وزارت کی سالانہ پریس کانفرنس میں قطر کی صورت حال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’’اس تازہ ترین پیش رفت سے ہمارے سامنے کوئی چیلنج نہیں پیدا ہوا ہے۔ یہ گلف کوآپریشن کونسل کا داخلی معاملہ ہے۔ ہماری واحد تشویش وہاں موجود بھارتی شہری ہیں، ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا کوئی بھارتی شہری وہاں پھنسا تو نہیں ہے۔ وہاں پہلے بھی ایسا ہوا تھا اور ہمیں امید ہے کہ جلد ہی حالات سدھر جائیں گے۔‘‘

سعودی قطری کشیدگی: پاکستان کے لیے صورت حال مشکل ہوگئی
خلیجی ممالک میں تقریباً چھ ملین بھارتی کام کرتے ہیں۔ ان میں سعودی عرب میں تقریباً تیس لاکھ، متحدہ عرب امارات میں چھبیس لاکھ اور قطر میں ساڑھے چھ لاکھ بھارتی مقیم ہیں جو قطر کی مجموعی آبادی کے ایک تہائی کے قریب ہے۔ خلیجی ملکوں میں کام کرنے والے بھارتی شہریوں کے ذریعے وطن بھیجا جانے والا غیر ملکی زرمبادلہ بھارت کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔گزشتہ سال مغربی ایشیائی ملکوں میں رہنے والے بھارتی شہریوں نے  63 بلین ڈالر کی رقم بھارت بھیجی تھی۔

Katar nach dem Boykott (Getty Images/AFP)

حالیہ برسوں میں بھارت کی متعدد بڑی کمپنیو ں نے قطر میں کنسٹرکشن، انفرا اسٹرکچر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر میں اپنی تجارتی سرگرمیاں شروع کی ہیں


بھارت کی وزارت کامرس کے 2015ء  کے اعداد و شمار کے مطابق قطر بھارت کا انیسواں سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان نو بلین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ حالانکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اور بھارت کے درمیان باہمی تجارت اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہ بالترتیب 49 ارب ڈالر اور 26 بلین ڈالر ہے۔
خلیج قطر تنازعے نے بھارت کے کارپوریٹ سیکٹر کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت کی متعدد بڑی کمپنیو ں نے قطر میں کنسٹرکشن، انفرا اسٹرکچر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر میں اپنی تجارتی سرگرمیاں شروع کی ہیں۔ 2022ء  کے فیفا ورلڈ کپ سے متعلق منصوبوں میں بڑی تعداد میں ہندوستانی ورکر کام کر رہے ہیں۔ اگرخطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو وہاں سے بھارتی ورکروں کو واپس لانا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ بہر حال بھارتی حکومت نے کسی بھی ممکنہ صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ وزار ت خارجہ نے خطے کے اپنے تمام سفیروں کو صورت حال پر گہری  نگاہ رکھنے کی ہدایت دے دی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کے مطابق ضرورت پڑنے پر بھارتی وزارت خارجہ کے وزیر مملکت جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ اور ایم جے اکبر کو مذکورہ ملکوں میں بھیجا جاسکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت خلیجی ملکوں کے باہمی تنازعے میں خود کو غیر جانبدار رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرے گا۔ مودی حکومت ان تمام ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وزیر اعظم مودی ان ملکوں کے دورے بھی کر رہے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ تین برسوں کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ایران اور قطرکا دورہ کیا۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اس سال یوم جمہوریہ تقریبات پر مہمان خصوصی کے طورپر بھارت آئے تھے جب کہ سعودی عرب نے وزیر اعظم مودی کو اپنے اعلی ترین شہری اعزاز سے نوازا تھا۔

DW.COM