1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قطر امریکا سے بارہ ارب مالیت کے جنگی جہاز خریدے گا، معاہدہ طے

قطر نے کہا ہے کہ اس کا امریکا سے ایف پندرہ طرز کے جنگی طیارے خریدنے کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ امریکا سے چھتیس طیارے خریدے جائیں گے اور ان کی مالیت بارہ ارب ڈالر بنتی ہے۔ اس کا مقصد دو طرفہ تعاون بڑھانا بتایا گیا ہے۔

خلیجی ممالک میں بحران کے باوجود امریکا قطر کو ایف پندرہ طرز کے تقریباً 36 جنگی طیارے فروخت کرے گا۔ قطری وزارت دفاع کے مطابق اس سلسلے میں بدھ کے روز امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور ان کے قطری ہم منصب خالد بن محمد العطیہ نے بارہ ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے اس سودے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ان دونوں ممالک کے مابین اس معاہدے کے حوالے سے کئی سال قبل ہی اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ اس معاہدے پر عملدرآمد ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے، جب چار عرب ممالک سمیت کئی ديگر ریاستیں قطر سے اپنے سفارتی روابط منقطع کر چکے ہيں۔ ابھی چند روز پہلے ہی سعودی ارب نے امریکا سے 110 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار خریدنے کے مختلف معاہدے کیے تھے۔

پینٹاگون کی طرف سے جاری ہونے والی ایک ای میل میں بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے سے قطر اور امریکا کے مابین سکیورٹی تعاون بڑھانے میں مدد ملے گی۔ جاری ہونے والی ای میل کے مطابق امریکی اور قطری حکام کے مابین داعش کے خلاف جاری جنگ اور قطر کی خلیجی ممالک کے ساتھ حالیہ کشیدگی کم کرنے جیسے موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی۔

اسی طرح نومبر میں امریکا نے قطر کو ایف پندرہ کیو اے طرز کے 72 جنگی جہاز خریدنے کی منظوری دی تھی اور اس معاہدے کی مالیت اکیس ارب بنتی ہے۔ بوئنگ کمپنی مشرق وسطیٰ میں لڑاکا طیارے فراہم کرنے والی سب سے بڑی ٹھیکیدار کمپنی ہے۔ اس کمپنی نے اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی حکام کے دورے اور دو امریکی بحری جہازوں کی دوحہ آمد سے پتا چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات کے برعکس امریکی حکومت کے اس ملک کے ساتھ اہم فوجی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ابھی جمعے کے روز ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کو ’دہشت گردی کا بڑا حامی‘ قرار دیا تھا۔

قطر میں 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور اس خطے کا ایک اہم بڑا امریکی فوجی بیس بھی قطر میں ہی ہے۔

DW.COM