1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

قطرکی زیرسربراہی فلکیاتی ماہرین کی طرف سے پہلا سیارہ دریافت

خلیجی ملک قطر کی زیرسربراہی کام کرنے والی بین الاقوامی فلکیاتی ماہرین کی ٹیم نے نظام شمسی سے باہر ایک نیا سیارہ دریافت کیا ہے۔ یہ سیارہ زمین سے پانچ سو نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک ستارے کے گرد گردش کررہا ہے۔

default

قطر فاؤنڈیشن برائے تعلیم اور سائنس کی طرف سے 15 دسمبر کو جاری کردہ اعلان کے مطابق سائزمیں نظام شمسی میں موجود سیارے جیوپیٹر یعنی مشتری سے قریب 20 گنا بڑے اس سیارے کو 'قطر ون بی' کا نام دیا گیا ہے، جو کہ گیس پر مشتمل ہے۔ اس سیارے کے دریافت کے بارے میں رپورٹ رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع کی جائے گی۔

برطانوی اور امریکی ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنے والی فلکیاتی ماہرین کی ٹیم نے امریکی ریاست نیومیکسیکو میں موجود وائڈ اینگل کیمروں کی بدولت اس نئے سیارے کا کھوج لگایا۔ اس ٹیم نے ان کیمروں سے حاصل شدہ معلومات کو کمپیوٹرز کے ذریعے جانچ کر خلا میں موجود لاکھوں ستاروں کی موجودگی میں اس سیارے کا کھوج لگایا۔ قطر ون بی اپنے ستارے کے گرد محض 35 لاکھ کلومیٹر کی دوری پر گردش کررہا ہے، جبکہ اس کا درجہ حرارت 1100 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

Astronomen beobachten erstmals Umlauf eines fernen Planeten

سیارے کی دریافت کے لئے بڑے قُطر کے کیمروں کا استعمال کیا گیا

نئے سیاروں کی دریافت کے قطری پروگرام کےسربراہ اور فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹڑ خالد الصُبائی کے بقول 'قطر ون بی' کی دریافت ایک عظیم کامیابی ہے، اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قطر سائنس اور تحقیق کے شعبے میں رہنما کردار ادا کرنے کے حوالے سےکس قدر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے سیارے کی دریافت کے ذریعے اپنا حصہ شامل کرکے قطر کو بہت فخر حاصل ہوا ہے۔

اس تحقیق میں معاونت کرنے والے سکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے پروفیسر کیتھ ہورنے کے بقول اس سیارے کی دریافت کے لیے استعمال کی گئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ماہرین کی اس ٹیم کو امید ہے کہ وہ بالآخر سیارہ زمین سے مماثلت رکھنے والے دیگر سیاروں کا کھوج لگانے میں بھی کامیاب ہوجائے گی۔

کیتھ ہورنے کے مطابق 'قطرون بی' محض ابتدا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاروں کا کھوج لگانے والے بڑے قُطر کےکیمروں کی بدولت بہت جلد اس سے کم حجم کے سیاروں کو بھی دریافت کرنے میں بھی کامیابی حاصل کرلی جائے گی۔

قطر ون بی اپنے ستارے کے گرد ایک اعشاریہ چار دن میں چکر مکمل کرلیتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس کا سال محض 34 گھنٹوں کی دورانیے پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہر 34 گھنٹے میں ایک بار اپنے محور کے گرد بھی ایک چکر مکمل کرتا ہے۔

قطر کی زیرسربراہی کام کرنے والی ماہرین کی اس ٹیم کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف لائسٹر اور کیل کے علاوہ امریکہ میں قائم ہاورڈ سمتھسونین سینٹر برائے ایسٹروفزکس کی معاونت بھی حاصل تھی۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس