1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قصاب کےلئے سزائےموت، عمر قید: پاکستان میں رد عمل

نومبر 2008ء کے ممبئی حملوں کے واحد زندہ مجرم اور پاکستانی شہری اجمل قصاب کو جمعرات کے روز ایک بھارتی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت پر پاکستان میں پائے جانے والے ردعمل میں گہرے دکھ اور افسوس کا فقدان دیکھنے میں آیا۔

default

کئی ماہرین کے بقول ممبئی حملوں میں اس پاکستانی شہری کے مرکزی کردار کے پس منظر میں اجمل قصاب کے خلاف عدالتی کاروائی کے غیر منصفانہ یا جانبدار ہونے کا کوئی بھی دعوی غلط ہو گا ۔

اس لئے حکومتی ذرائع یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے اجمل قصاب کو اگر کسی سرکاری یا قانونی مدد کی ضرورت پیش آئی تو بھارت میں اسے سفارتی نمائندوں کے ذریعے یہ مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا بظاہر نہیں ہو گا کہ ممبئی میں اجمل قصاب کو سنائی گئی سزا دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی نئی کشیدگی کا باعث بنے۔

ممبئی میں ان دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے پاک بھارت تعلقات میں جو غیر معمولی کشیدگی دیکھنے میں آ رہی تھی، اس میں اب دونوں ملکوں کے سرکاری نمائندوں سے لے کر حکومتی سربراہان تک کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے نتیجے میں کافی کمی آئی ہے اور اب حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔

ممنوعہ پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے اجمل قصاب کو سنائی گئی سزا کے بارے میں معروف دفاعی تجزیہ نگار طلعت مسعود نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اجمل قصاب کو سنائی گئی سزا غیر متوقع نہیں ہے۔

Ujjwal Nikka, Staatsanwalt von Maharashrra

قصاب کے خلاف مقدمے کے وکیل استغاثہ اجول نکم

طلعت مسعود کہتے ہیں: ’’جس قسم کا بھیانک جرم اس نے کیا، اس میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ اس لئے توقع یہی کی جا رہی تھی کہ عدالت مجرم کو اسی قسم کی کوئی سزا سنائے گی۔ یہ امکان ہے کہ اجمل قصاب اس فیصلے کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے گا، لیکن اس کا بھی کوئی خاطرخواہ نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں ہے۔‘‘

دفاعی اور سیاسی شعبے کے ایک اور معروف تجزیہ نگار پروفیسر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ ممبئی کی عدالت نے جو فیصلہ سنایا یے، اس کا براہ راست اثر پاک بھارت تعلقات پر پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن دو صورتوں میں اس کے منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ’’ایک تو یہ کہ بھارت میں سیاسی، خصوصا حکومتی عناصر اس عدالتی فیصلے کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں گے، جس کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ابھی جو خبریں آرہی ہیں، ان میں غالباً یہ بات بھی شامل ہے کہ لشکر طیبہ کے جو لوگ پاکستان میں ہیں، ان کو بھی قصوروار قرار دیا گیا ہے۔‘‘

پروفیسر ‌حسن عسکری کے بقول اگر یہ بات درست ہے تو پھر اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ’’ایسی صورت میں پاک بھارت مذاکرات شروع ہونے پر بھارت کہے گا کہ ایسے افراد کو نئی دہلی کے حوالے کیا جائے۔ اس سے دوطرفہ مکالمت پر منفی اثر پڑے گا، یعنی اصل مسائل پر گفتگو نہیں ہو سکے گی۔‘‘

2008ء کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں کل 166 افراد ہلاک اور 300 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے اجمل قصاب پر لگائے گئے مجموعی طور پر 86 الزامات کو درست قراردیا اور ان میں سے چار الزامات میں اسے سزائے موت جبکہ پانچ الزامات میں عمرقید کی سزا سنائی۔

رپورٹ: عصمت جبیں، اسلام آباد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM