1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قزاقوں نے جانوروں جیسا سلوک کیا، بھارتی سیلرز

ایک بحری جہاز کے دس مہینے تک صومالی قزاقوں کی قید میں رہنے کے بعد جمعہ کو نئی دہلی پہنچنے والے بھارتی کارکنوں نے اس بارے میں بہت پریشان کر دینے والی تفصیلات بتائیں کہ قزاقوں نے یرغمالیوں کے طور پر ان سے کیسا برتاؤ کیا۔

default

یہ بھارتی بحری کارکن اور ان کے دیگر ساتھی قزاقوں کو تاوان کے طور پر 2.1 ملین ڈالر کی ادائیگی کے بعد ابھی حال ہی میں رہا کیے گئے تھے۔ ان بھارتی شہریوں کی تعداد چھ ہے جو چار پاکستانیوں، گیارہ مصری باشندوں اور سری لنکا کے ایک شہری کے ساتھ سویز نامی مال بردار بحری جہاز پر کام کرتے تھے۔ مصر میں رجسٹرڈ اس بحری جہاز کو اس کے عملے سمیت گزشتہ برس اگست میں صومالی قزاقوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔

سویز اور اس کے عملے کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت نے مصر کے ساتھ مل کر اپنی مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔ اس دوران قزاقوں کو تاوان کی ادائیگی کے لیے رقم بھی جمع کر لی گئی تھی۔ چند روز قبل سویز اور اس کے عملے کے ارکان کو قزاقوں نے رہا کر دیا تھا۔ کل جمعرات کو یہ بحری جہاز پاکستانی شہر کراچی کی بندرگاہ پر پہنچا تو بڑے جذباتی منظر دیکھنے میں آئے۔

Somalia Kenia Piraten verhaftet in Mombasa

پاکستان سے یہ چھ بھارتی شہری آج جمعہ کو بذریعہ ہوائی جہاز نئی دہلی پہنچے تو ان کی ان کے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کے لمحات انتہائی جذباتی تھے۔ ان بھارتی شہریوں اور ان کے اہل خانہ نے خاص طور پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا، جس کی کوششوں کی وجہ سے سویز اور اس کے عملے کی رہائی ممکن ہو سکی۔

اس موقع پر ان بھارتی سیلرز نے بتایا کہ کس طرح صومالی قزاقوں نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو زنجیروں سے باندھ کر رکھا۔ اکثر انہیں بھوکا پیاسا رکھا جاتا تھا اور ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ سویز نامی اس جہاز کے بھارتی کپتان این کے شرما نے نئی دہلی ایئر پورٹ پر صحافیوں کو بتایا کہ قزاق انہیں اور دیگر یرغمالیوں کو اس طرح اندھیرے میں قید رکھتے تھے کہ انہیں کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں دیا جاتا تھا۔ کیپٹن شرما کے مطابق قزاقوں کا رویہ سارے ہی یرغمالیوں کے ساتھ انتہائی برا تھا۔

MS Taipan Piraten Somalia

سویز نامی کارگو شپ کے ایک اور بھارتی سیلر پرشانت چوہان نے بتایا، ’’دس مہینے تک قزاقوں کی قید میں رہنا دوزخ سے بھی برا تھا۔ ہمیں زنجیریں پہنا کر قید میں رکھا گیا۔ ہمیں کھانے کے لیے زیادہ تر ابلے ہوئے چاول دیے جاتے تھے۔ ہم میں سے ہر ایک کئی کئی بار ایسے لمحات سے گزرا کہ ہماری اپنی رہائی سے متعلق تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں۔

ان بحری کارکنوں کی رہائی کی کوششوں کے لیے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اپنے ایک بیان میں پاکستانی حکومت کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی بحریہ نے سویز کے عملے کی جو بروقت مدد کی، اس پر نئی دہلی حکومت پاکستان کی شکر گزار ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس