1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قزاقستان: پارلیمنٹ تحلیل، قبل از وقت الیکشن کا اعلان

وسطی ایشیائی ریاست قزاقستان کے صدر نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کی ڈگری جاری کردی ہے۔ انہوں نے قبل از وقت پارلیمانی الیکشن کروانے کا بھی اعلان کیا ہے، جو پندرہ جنوری کو منعقد کروائے جائیں گے۔

default

قزاقستان میں الیکشن

قزاقستان کے صدر نور سلطان نذر بائیف نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے قبل از وقت الیکشن کا اعلان کیا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاست میں پارلیمانی انتخابات پندرہ جنوری کو شیڈیول کیےگئے ہیں۔ معمول کے مطابق قزاقستان میں اگلے عام الیکشن اگلے سال اگست میں ہونے تھے۔ اب یہ انتخابات سات ماہ قبل ہوں گے۔ صدر نذر بائیف نے منگل کے روز ایک سرکاری میٹنگ میں انتخابات کو اگست سے پہلے کروانے کو تجویز کیا تھا۔

قزاقستان کی پارلیمنٹ میں ایک پارٹی قابض ہے۔ اس پارٹی کا نام نور اوتان پارٹی ہے۔ نئے انتخابات کے بعد اب سن 2009 کی منظور شدہ ترمیم کے بعد اس کا امکان پیدا ہوا ہے کہ پارلیمنٹ میں ایک اور پارٹی بھی موجود رہے گی۔ سن 2009 کی ترمیم کے مطابق کامیاب پارٹی کے علاوہ سب سے زیادہ ووٹ لینے والی دوسری سیاسی جماعت کو پارلیمنٹ میں نشستیں دی جائیں گے۔

Kasachstan Astana Nasarbajew vorgezonene Wahlen

الیکشن میں حکومتی مداخلت کے خلاف اپوزیشن کا جلسہ

صدر نور سلطان نذر بائیف کی حکومت کی حامی سیاسی جماعت الژول پارٹی کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات میں پارلیمنٹ میں بیٹھنے والی دوسری سیاسی جماعت بن سکتی ہے۔ الژول پارٹی کاروباری حلقوں کے زیر اثر بننے والی سیاسی جماعت ہے۔ اس کے لیڈر کا نام عَزت پیروشیف ہے۔ پیرو شیف کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ صدر نور سلطان نذر بائیف کے ارب پتی داماد تیمور قلی بائیف کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ پیرو شیف قزاقستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

دوسری جانب وسطی ایشیائی ریاست میں جمہوریت نوازوں کی ڈھکی چھپی تحریک کے سرگرم کارکن Galym Ageulov کا کہنا ہے کہ حکومتی خرچے پر انتخابات کا انعقاد حقیقت میں سرکاری خزانے کا بلاوجہ ضیاع ہے کیونکہ الیکشن میں حکومتی پارٹی کو کسی مخالفت کا ہر گز سامنا نہیں ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ قزاقستان میں بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اب تک کوئی الیکشن شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Nasarbajew

نور سلطان نذر بائیف

نور سلطان نذر بائیف اپنے ملک پر آزادی کے بعد سے حکومت کر رہے ہیں۔ آزادی سے قبل وہ اس علاقے میں کمیونسٹ پارٹی کے علاقائی چیف تھے۔ دستور کے تحت پارلیمنٹ ایک بااختیار ادارہ ہے لیکن ناقدین کے بقول حقیقت میں وہ صدر بائیف کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہے۔ تمام تر اختیارات صدر کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کو اسی سال کے اوائل میں اگلی پانچ سالہ مدت کے لیے صدر منتخب کیا جا چکا ہے۔

قزاقستان میں گزشتہ چند ماہ سے ایک مضبوط اپوزیشن پارٹی کی تشکیل کا عمل دیکھا جا رہا ہے۔ اس کو پیپلز فرنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس فرنٹ میں کمیونسٹ پارٹی اور غیر رجسٹرڈ شدہ جماعت الگا پارٹی شامل ہے۔ اکتوبر میں قزاقستان کی ایک عدالت نے کمیونسٹ پارٹی پر چھ ماہ کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی پابندی عائد کردی ہے۔ یہ پابندی پیپلز فرنٹ میں الگا پارٹی کو غیر اعلانیہ شامل کرنے کی بنیاد پر لگائی گئی ہے۔ اس باعث جنوری کے انتخابات میں وہ شرکت سے قاصر ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس