1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قزاقستان میں الیکشن، نذربائیف کا پھر سے انتخاب یقینی

قزاقستان میں صدر نور سلطان نذر بائیف کو آج اتوار کے روز ممکنہ طور پر ان کے موجودہ عہدے پر ایک بار پھر منتخب کر لیا جائے گا، جس کے بعد ان کے عہدے کی نئی مدت پوری ہونے تک ان کے اقتدار کے تین عشرے پورے ہو چکے ہوں گے۔

default

مغربی ملکوں کو اس بات پر خاصی تشویش ہے کہ اس وسطی ایشیائی جہموریہ میں نور سلطان نذر بائیف ایک بار پھر بڑی آسانی سے سربراہ مملکت چن لیے جائیں گے۔ لیکن ایک سیاسی رہنما کے طور پر 70 سالہ موجودہ صدر ایک ایسے سیاستدان ہیں، جنہوں نے اپنے لیے ملک کا ایک نیا دارالحکومت بھی تعمیر کرایا اور قزاقستان میں ابھی تک انہیں ہر قسم کے اختیارات حاصل ہیں۔

قزاقستان کا ایک آزاد وسطی ایشیائی جمہوریہ کے طور پر وجود سن 1989 میں سابقہ سوویت یونین کی تقسیم کے ساتھ عمل میں آیا تھا اور نذربائیف اس ملک کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔ نذربائیف ایک کارکن کے طور پر اپنی غیر سیاسی زندگی میں ایک سٹیل ورکر کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں اور اس وقت انہیں اپنے دوبارہ انتخاب کی راہ میں چند بہت معمولی چیلنجوں کا سامنا بھی ہے۔ تاہم ان کے حامیوں کو امید ہے کہ سن 2005 کے مقابلے میں، جب انہیں 95 فیصد ووٹ ملے تھے، اس مرتبہ انہیں 95 فیصد سے بھی زیادہ عوامی تائید حاصل ہو گی۔

جدید قزاقستان میں ماضی میں جو بھی انتخابات ہوئے ہیں، مغربی دنیا نے وہاں فرائض انجام دینے والے غیر جانبدار مبصرین کی فراہم کردہ معلومات کی بناء پر ہمیشہ ہی ان انتخابات کی مذمت کی ہے۔ آج ہونے والے الیکشن سے متعلق جو رپورٹ ایسے مبصرین کل پیر کے روز جاری کریں گے، اس میں خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ممکنہ طور پر یہی کہا جائے گا کہ اس انتخابی عمل میں شفافیت اور حقیقی مقابلے کے عنصر کی کمی تھی۔

Flash-Galerie Nursultan Nasarbajew Kasachstan

نذربائیف قزاقستان کی آزادی سے اب تک صدر چلے آ رہے ہیں

قزاقستان کی سیاست میں نور سلطان نذربائیف کے کردار کے بارے میں صدر کے ایک مشیر نورلان یرمیک بائیف کہتے ہیں کہ کسی کو بھی موجودہ سربراہ مملکت کے کردار اور سیاسی مقبولیت کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے قبل یہ سوچنا ہو گا کہ نذربائیف کی قزاقستان کے معاشرے میں کیا اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا، ’نذربائیف اب تک ہمارے پہلے صدر اور صدارتی فرائض انجام دینے والے واحد رہنما ہیں۔ وہ بہت سی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM