1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قریب دو لاکھ آسٹریلوی ورکرز کے اچانک ’بیمار‘ پڑ جانے کا خدشہ

آسٹریلیا میں قریب دو لاکھ کارکنوں کے جمعہ ستائیس جنوری کے روز ایک دن کے لیے اچانک ’بیمار‘ پڑ جانے کا خدشہ ہے۔ ملکی چیمبر آف کامرس کے مطابق اس ’بیماری‘ کی وجہ سے ملکی معیشت کو باسٹھ ملین ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔

سڈنی سے پیر تئیس جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اندازہ ہے کہ ایک لاکھ اسّی ہزار سے زائد ملکی کارکنوں کی طرف سے اسی ہفتے جمعہ ستائیس جنوری کے دن اپنی اپنی جائے روزگار سے ایک دن کی ’بیماری‘ کی وجہ سے ممکنہ طور پر غیر حاضر رہنے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ یہ تمام کارکن یکدم واقعی بیمار پڑ گئے ہیں۔

اس کے برعکس اس کی وجہ یہ ہو گی کہ یہ کارکن متوقع طور پر جمعے کی روز باقاعدہ چھٹی لیے بغیر لیکن نزلے، زکام، بخار اور سر درد وغیرہ جیسی ’بیماریوں‘ کا بہانہ کر کے اپنے اپنے کام پر نہیں جائیں گے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے لیے آئندہ ویک اینڈ دو کے بجائے چار دن کا ہو جائے گا۔

آسٹریلیا کے ایوان صنعت و تجارت کے چیف ایگزیکٹو جیمز پیئرسن نے پیر کے روز سڈنی میں کہا کہ ملکی آجرین کے تجربے کے مطابق لاکھوں کارکنوں کے اس طرح اچانک ’بیمار‘ پڑ جانے کی وجہ یہ ہو گی کہ آسٹریلیا میں جمعرات چھبیس جنوری آسٹریلیا ڈے کہلانے والی عام تعطیل ہے۔ اس سال یہ قومی تعطیل جمعرات کے روز ہو گی اور اس دن کام کاج کے کسی بھی عام دن کے مقابلے میں ’بیماری‘ کی وجہ سے اپنے دفتر یا جائے روزگار پر نہ جانے والوں کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار زیادہ ہو گی۔

جیمز پیئرسن کے بقول اس طرح ایسے کارکن صرف ہفتہ اور اتوار کے بجائے جمعرات سے لے کر اتوار تک چار دن کی چھٹی کر سکیں گے، اور ان کا ویک اینڈ معمول کے دو دنوں کے بجائے چار دن کا ہو جائے گا۔

آسٹریلیا ڈے آسٹریلیا میں اسی طرح کی عام تعطیل ہوتی ہے، جس طرح تین اکتوبر کو جرمنی میں ملک کے دوبارہ اتحاد کے دن کی سالگرہ کے موقع پر قومی تعطیل ہوتی ہے یا پھر فرانس میں چودہ جولائی کو قومی دن کی چھٹی ہوتی ہے۔

آسٹریلیا ڈے کی سالانہ چھٹی اس دن کی یاد میں منائی جاتی ہے، جب 1788ء میں 26 جنوری کے روز برطانیہ کا پہلا بحری بیڑہ سڈنی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تھا۔ آسٹریلوی چیمبر آف کامرس کے سربراہ کے مطابق ملکی کارکنوں کو چاہیے کہ اگر وہ جمعرات کے روز کام پر نہیں آنا چاہتے، تو انہیں ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’بیماری‘ کا بہانہ بنانے کے بجائے اپنی سالانہ چھٹیوں میں سے ایک دن کی چھٹی لے لینا چاہیے۔

ماہر اقتصادیات کے مطابق آسٹریلیا میں آئندہ جمعرات کے روز قریب دو لاکھ کارکنوں کے اس طرح ’آجرین کے تجربے کی روشنی میں متوقع طور پر‘ لیکن ایک دن کے لیے اچانک ’بیمار‘ پڑ جانے سے ملکی معیشت کو جو نقصان ہو گا، اس کی مجموعی مالیت 62 ملین آسٹریلوی ڈالر یا 46 ملین امریکی ڈالر کے برابر ہو گی۔