1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قرن افریقہ میں لاکھوں انسان بھوک سے تباہ حال

قرن افریقہ میں بارہ ملین انسان بھوک کے باعث موت کے منہ میں چلے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایتھوپیا، صومالیہ اور کینیا کے سنگم پر واقع کیمپ ڈولو آڈو میں ایک لاکھ بیس ہزار صومالی باشندے پھنسے ہوئے ہیں۔

default

جہاں کینیا میں امدادی تنظیمیں قحط سے دوچار مہاجرین کے سیلاب سے نمٹنے کے لیے کافی حد تک تیار تھیں، وہاں اِس کیمپ میں پھنسے اِن صومالی باشندوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، جو بھوک اور انتہا پسند اسلامی ملیشیا الشباب کی دہشت گردی سے تنگ آ کر گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ڈوئچے ویلے کے افریقی شعبے  لُڈگر شاڈومسکی اِس کیمپ کے آنکھوں دیکھے حال پر مشتمل اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں:

کیمپوں میں پہنچنے والے بچوں میں سے تیس تا ساٹھ فیصد کم خوراکی کا شکار ہوتے ہیں

کیمپوں میں پہنچنے والے بچوں میں سے تیس تا ساٹھ فیصد کم خوراکی کا شکار ہوتے ہیں

’’اس کیمپ میں ہماری ملاقات 18 سالہ شریف داہر سے ہوئی، جو ایک ہفتہ قبل صومالی دارالحکومت موغادیشو سے روانہ ہوا تھا اور کبھی پیدل تو کبھی کسی منی بس وغیرہ میں بیٹھ کر ایتھوپیا کی سرحد تک کا چار سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے اُسی روز ڈولو آڈو نامی اِس کیمپ میں پہنچا تھا۔ اس صومالی نوجوان نے، جس کی آنکھوں میں سرخی تھی، بے چین اور مدد طلب نظروں سے اپنے اردگرد دیکھتے ہوئے بتایا:’’موغادیشو میں سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ کوئی حکومت نہیں ہے، جو ہمیں تحفظ دے سکے۔ الشباب ملیشیا والے رات کو آتے ہیں اور نوجوانوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں تاکہ اُنہیں حکومت اور افریقی یونین کے ساتھ لڑائی میں استعمال کر سکیں۔ انکار کرنے والے نوجوانوں کو گولی مار دی جاتی ہے۔‘‘

اس نوجوان کی طرح سڑسٹھ سالہ کُوسو مایو حسن بھی الشباب کے زیر قبضہ علاقوں سے گزرتا ہوا دَس روز کے مشکل اور خطرناک سفر کے بعد اس کیمپ میں پہنچا تھا۔ اُس کے ساتھ اُس کی بیٹی حلیمہ اور دو سالہ نواسی بھی تھیں۔ اُس نے بتایا:

’’میرے پاس ایک ہی اونٹ رہ گیا تھا، باقی خشک سالی کے باعث مر گئے تھے۔ اُس ایک اونٹ کو بیچ کر ہی مَیں اپنے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا پینا خرید پایا۔‘‘

خشک سالی اور بھھوک سے تنگ آ کر لاکھوں افریقی باشندے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں

خشک سالی اور بھھوک سے تنگ آ کر لاکھوں افریقی باشندے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں

تین ارکان پر مشتمل اس کنبے کو اس کیمپ میں ایک ماہ تک کے قیام کے بعد اب خیموں پر مشتمل ایک اور کیمپ میں بھیجا جا رہا تھا، جہاں 35 ہزار مہاجرین کی گنجائش ہے۔ اُس کیمپ میں اِس کنبے کو مہینوں بلکہ برسوں تک قیام کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈولو آڈو کیمپ میں ا یک فرانسیسی غیر سرکاری تنظیم ’ایکشن اگینسٹ ہنگر‘ سے وابستہ ڈاکٹر فِل جیمز نے بتایا:’’ہر روز تقریباً بارہ سو نئے مہاجرین اس کیمپ میں پہنچتے ہیں۔ اُن میں سے ہم چھ سو کا طبی معائنہ کرتے ہیں۔ بچوں میں سے تیس تا ساٹھ فیصد کم خوراکی کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘

ان بچوں کو توانائی سے بھرپور خوراک دی جاتی ہے اور مختلف طرح کی بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات بھی دی جاتی ہیں۔ زیادہ کمزور اور بیمار  مہاجرین کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔‘‘

رپورٹ: لُڈگر شاڈومسکی (ڈوئچے ویلے، افریقہ) / امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس