1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قرض سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی، وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی قرضے کی حَد بڑھانے کے لیے جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ حکام نے اس حوالے سے اتفاق رائے کے قریب پہنچنے کی خبریں مسترد کر دی ہیں۔

default

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے کہا ہے: ’’کوئی معاہدہ نہیں ہوا، ہم کسی معاہدے کے قریب نہیں پہنچے۔‘‘

ان کا یہ بیان ایسی خبروں کے بعد سامنے آیا، جن میں کہا گیا کہ ہفتوں کی بحث کے بعد ریپبلیکنز اور ڈیموکریٹس ایک نکتے پر پہنچ گئے ہیں۔

ریپبلیکن ہاؤس اسپیکر جان بویہنر نے بھی تردید کی ہے کہ کوئی معاہدہ ہونے والا ہے۔ تاہم ان کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے: ’’ہم نے رابطے کے تمام راستے کھلے چھوڑے ہوئے ہیں۔‘‘

قبل ازیں جمعرات کو وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز نے یہ خبر جاری کی کہ امریکی صدر باراک اوباما اور بویہنر معاہدے کے قریب پہنچنے والے ہیں۔ یہ خبر امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ بنی۔

تاہم کارنے نے بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’’ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے بارے میں بتایا جا سکے۔’’

انہوں نے اس سے متعلق خبروں کو بھی غلط قرار دیا۔ اے ایف پی کے مطابق اعلیٰ امریکی سینیڑوں نے کہا ہے کہ کانگریس دیوالیہ ہونے کے خطرے کا رخ موڑنے کے لیے بروقت کارروائی کرے گی۔

Barack Obama Haushaltskrise USA

امریکی صدر باراک اوباما

ڈیفالٹ کے حوالے سے دو اگست کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور اس صورت حال سے بچنے کے لیے قرضے کی حَد بڑھانے پر اتفاق رائے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس وقت امریکی قرضے کی حد چودہ اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر ہے، جس تک حکومت سولہ مئی کو پہنچ گئی تھی۔ اس کے باوجود اخراجات کے تناظر میں انتظامیہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے لیکن دو اگست تک اسے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ بویہنر کا بھی یہی کہنا ہے: ’’بالآخر ہماری ذمہ داری ہے کہ کوئی کارروائی کریں۔‘‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس