1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قربانی کے جانور خریدیے اب آن لائن

کئی دہائیوں تک بھارت میں مویشی منڈیوں اور باڑوں میں عید الاضحیٰ کی قربانی کے لیے جانور فروخت کرنے والے افراد نے اب اپنی بکریاں اور گائیں بیچنے کے لیے نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔

مسلمان ممالک میں عید الاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں کی تعداد میں افراد بکریاں، بھیڑیں اور گائیں ذبح کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں عید جمعے کے روز منائی جا رہی ہے اور اس مناسبت سے کئی روز سے مویشیوں کی منڈیوں میں لوگوں کا ہجوم لگا ہے۔ جوق در جوق لوگ اپنے پسندیدہ جانور خریدنے کے لیے یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ بھاؤ تاؤ، بکرے کے دانتوں کی جانچ پڑتال، قیمتوں پر تکرار، یہ سب عید کی تیاریوں کا حصہ ہی تو ہے۔

تاہم اس برس بھارتی میوشی فروشوں نے اس جھنجھٹ کو کم کرنے کے لیے ملک کی مشہور آن لائن سروسز کا رخ کیا ہے۔ یہاں وہ اپنے جانوروں کی تشہیر کرتے ہیں اور صارفین آن لائن ہی ان کی بکنگ کرتے ہیں۔

اس بارے میں راجھستان سے تعلق رکھنے والے قیصر خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’مجھے دس سے پندرہ کالیں روزانہ موصول ہو رہی ہیں۔‘‘ خان کا کہنا ہے کہ وہ عید سے قبل راجھستان کی کئی منڈیوں کے چکر کاٹا کرتا تھا، جس کے باعث اسے اپنے گھر سے کئی ہفتے دور رہنا پڑتا تھا۔ مگر اس برس چھ مویشی آن لائن فروخت کیے ہیں، جن میں سے ایک کی قیمت ڈھائی لاکھ بھارتی روپے یا تین ہزار آٹھ سو امریکی ڈالر تھی۔

خان کا مزید کہنا تھا: ’’یہ خریداروں کے لیے آسان ہے۔ ہم انہیں جانور ان کے دروازے تک پہنچا آتے ہیں۔ میرے کئی دوست بھی آن لائن ذریعے سے ہی اپنے مویشی فروخت کر رہے ہیں۔‘‘

تاہم پرانے دہلی میں مویشی فروش آن لائن مقابلے بازی کے چکر میں پڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ بکرے اور گائیں پہلے خود دیکھ کر اور پسند کر کے خریدنا چاہتے ہیں۔

شمالی شہر مرادآباد سے تعلق رکھنے والے جمعہ شاہ کا کہنا ہے، ’’آن لائن مویشی فروشی سے ہمارے کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دوسری بات یہ ہے جو مویشی آن لائن بیچے جا رہے ہیں وہ منڈی سے زیادہ مہنگے ہیں۔‘‘

آن لائن مویشی فروشی ایک نیا طرز ہے اور اس کے مقبول ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم بھارت میں اس کی ابتدا تو ہو چکی ہے۔ دیکھنا ہے کہ یہ طریقہ پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک میں کب متعارف ہوتا ہے۔