1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قرآن کے بے حرمتی کے خلاف افغانستان میں پرتشدد مظاہرے جاری

امریکہ میں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف افغانستان میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ شمالی شہر مزار شریف کے واقعے کے بعد جنوبی شہر قندھار سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

default

قندھار کے گورنر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ شہر میں ہفتہ کے روز کو کیے گئے مظاہرہ کا اہتمام طالبان نے کیا جس میں 10افراد ہلاک ہوئے۔ بتایا جارہا ہے کہ سینکڑوں مشتعل مظاہرین نے شہری انتظامیہ اور اقوام متحدہ کے دفاتر کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تھی۔ فوری طور پر چار افراد کی ہلاکت اور 32 کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اس خونریزی پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی پادری ٹیری جونز نے کہا ہے کہ وہ ہلاکتوں کی ذمہ دار نہیں، ’’ اسلام کے اندر انتہا پسند عناصر قرآن کے جلائے جانے کو ایک بہانہ بنا کر اپنی پرتشدد کارروائیوں کا فروغ چاہتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ٹیری جونز کی قیادت میں ریاست فلوریڈا کے ایک چرچ میں دوسری مرتبہ قرآن جلایا گیا۔

UN Afghanistan Flash-Galerie

2009ء میں بھی افغانستان متعین پانچ اہلکار دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے

دوسری طرف کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں نے مزار شریف شہر کے واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کردی ہے۔ ان کے ایک ترجمان کے بقول اس واقعے میں افغان شہریوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں مارے جانے والے غیر ملکیوں میں تین نیپالی، رومانیہ کا ایک شہری، ایک نائیجیرین اور ایک سویڈش شہری شامل تھے۔ مرنے والوں میں پانچ افغان شہری بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مزار شریف شہر قدرے پر امن تصور کیا جاتا ہے اور وہاں اس طرز کے پرتشدد واقعے کی امید نہیں کی جارہی تھی۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے اہلکار Alain Le Roy کے بقول یو این کے کمپاؤنڈ پر حملے کے وقت بعض مظاہرین پہلے ہی سے مسلح تھے اور واضح طور پر حملے کی نیت رکھتے تھے۔

UN Sicherheitsrat Kongo

Alain Le Roy

افغان میڈیا کے مطابق مزار شریف کے بہت سے شہری پر امن احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے تاہم بعض شرپسند عناصر نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردی کی۔ شورش زدہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر کیا گیا یہ خونریز ترین حملہ تھا۔ اس سے قبل اکتوبر 2009ء میں دارالحکومت کابل متعین یو این کے پانچ اہلکار دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔

افغان دارالحکومت میں متعین اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی سلامتی کو ممکن بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ نیویارک میں 15 ملکی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس کے بعد کابل حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں اقدامات اٹھائے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM