1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قرآن کی مبینہ آتشزنی کے بعد کشیدگی، گھوٹکی میں ایک ہندو قتل

پاکستانی صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی میں ایک ہندو شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس جنوبی شہر میں مسلمانوں کی مقدس کتاب کے مبینہ طور پر جلائے جانے پر گزشتہ کئی دنوں سے کشیدگی پائی جا رہی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی پولیس کے حوالے سے اٹھائیس جولائی بروز جمعرات بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے کل بدھ کے دن ایک اٹھارہ سالہ ہندو لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ کی وجہ سے ایک دوسرا شخص زخمی بھی ہو گیا۔

گھوٹکی کے اعلیٰ پولیس اہلکار مسعود بنگش نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چار روز قبل ایک مقامی مسجد کے قریب سے مبینہ طور پر قرآن کی چند جلی ہوئی جلدیں ملی تھی، جس کے بعد ایک ہندو کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

مقامی حکام نے بتایا کہ گھوٹکی میں پولیس کا گشت سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی نئے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس شہر میں گزشتہ کئی دنوں سے ماحول کافی تناؤ کا شکار ہے۔

بنگش کے بقول ہندو نوجوان کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

بنگش نے بتایا کہ اس پرشدد واقعے کو قرآن کی جلدوں کے جلائے جانے کے مبینہ واقعے سے منسوب کرنا قبل از وقت ہو گا۔

مسعود بنگش نے مزید کہا کہ شہر میں روزمرہ کی زندگی بحال ہو چکی ہے لیکن ممکنہ پرتشدد واقعات کے پیش نظر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں دوکانیں کھل چکی ہیں اور لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی بحال ہو چکا ہے۔

In der Großstadt Lahore im Osten Pakistans hat eine aufgebrachte Menschenmenge dutzende Häuser von Christen in Brand gesetzt

پاکستان میں ایسے کسی مبینہ واقعے حتیٰ کہ افواہ پر بھی مشتعل اکثریتی مسلمان قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں

پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت کے خلاف نافذ سخت قوانین کے تحت ایسے کسی بھی مجرم کو سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے لیکن ابھی تک ایسے کسی مجرم کو سنائی گئی سزائے موت پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

تاہم عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایسے کسی مبینہ واقعے حتیٰ کہ افواہ پر بھی مشتعل اکثریتی مسلمان قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔

حالیہ عرصے میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ بھی نوٹ کیا گیا ہے، جہاں طالبان اور دیگر شدت پسند گروہ باقاعدگی کے ساتھ مسیحی، سکھ، ہندو، احمدی اور شیعہ عقیدوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔