1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قرآن کی بے حرمتی کی افواہ پر افغانستان میں مظاہرے

افغان پولیس نے کابل میں تقریبا ایک ہزار مظاہرین کو منشتر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی ہے۔ مظاہرین نے امریکہ مخالف نعرے لگا ئے اور امریکی صدر کا پتلا بھی جلایا۔

default

افغانستان متیعن غیر ملکی افواج کی طرف سے مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی افواہ پھیلنے کے بعد کابل یونیورسٹی کے طالب علموں نے یونیورسٹی سے پارلیمان کی عمارت کی طرف مارچ کیا اور امریکی صدر باراک اوباما کا پتلا جلایا۔ پارلیمان کی عمارت کے سامنے پہنچنے پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے افغان پولیس نے ہوائی فائرنگ کی۔ ان مظاہروں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ ایک طالب علم نے خبررساں اداروں سے کہا کہ اس مبینہ بے حرمتی کے مرتکب افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جانی چاہئے۔

US Armee Training Afghanistan

نیٹو نے اس واقعہ کو صرف ایک افواہ قرار دیاہے

دوسری طرف امریکی اور افغان حکام نے اس ایسے کسی بھی واقعے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان باغیوں نے دانستہ طور پر یہ افواہ پھیلائی ہے تاکہ ملکی حالات کو خراب کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دو ہفتے قبل وردوک صوبے میں غیر ملکی افواج نے طالبان باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران مقدس کتاب کو نذر آتش کیا۔ اس افواہ کے بعد خوست اور وردوک صوبے میں ایسے ہی مظاہرے دکھنے میں آئے۔

امریکی اتحادی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اس افواہ کے بعد انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کی ہیں تاہم اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ نیٹو کے مطابق طالبان باغی اس واقعہ سے ملک میں امریکہ مخالف جذبات بھڑکاناچاہتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گل