1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قرآن نذر آتش کرنا امریکی اقدار کے خلاف : اوباما

قدامت پسند پادری ٹیری جونز کے قران نذر آتش کرنے کے مجوزہ پلان پر امریکی صدر نے بھی خاصی تنقید کی ہے اور ان کے خیال میں یہ قدم مزید خوکش حملوں کا سبب بنے گا۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ قدامت پسند پادری ٹیری جونزنے اگر قرآن نذر آتش کیا تو اس عمل سے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو نہ صرف تقویت ملے گی بلکہ نئے دہشت گردوں کی بھرتیوں میں اضافہ بھی ہوگا۔ دوسری طرف عالمی برداری نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قرآن سوزی کو روکنے کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔

ایک امریکی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ قرآن نذر آتش کرنے کے نتیجے میں انتہاپسندوں کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیم القاعدہ اور اس کے حلیفوں کو بھرپور موقع ملے گا کہ وہ مزید افراد کی بھرتیاں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے دہشت گردانہ کارراوئیوں میں اضافہ ہو جائےگا،’’پاکستان اور افغانستان میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس بات کا امکان بھی ہے کہ انتہا پسند امریکی اور یورپی شہروں میں خود کش حملوں کے لئے تیار ہو جائیں۔‘‘

Reaktionen zu Terry Jones' Koran-Plänen

اس منصوبے کے خلاف دنیا بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے

باراک اوباما نے مزید کہا،’’ ٹیری جونز سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے کے لئے جا رہے ہیں، وہ یقینی طور پر امریکی معاشرتی اقدار کے قطعی برخلاف ہے۔ اس ملک کی بنیاد مذہبی برداشت اورآزادی پر مبنی ہے۔‘‘

دریں اثناء امریکی ریاست فلوریڈا میں مقیم ایک مسیحی فرقے کے بانی اور پادری ٹیری جونز اپنے اعلان پر بضد ہیں کہ وہ گیارہ ستمبرسن2001ء کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی نویں برسی کے موقع پر قرآن کے دو سو نسخے نذرآتش کریں گے۔

انٹر پول نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ٹیر ی جونز نے اپنے مجوزہ منصوبے پر عمل کیا تو دنیا بھر میں دہشت گردانہ حملوں کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ اس صورتحال میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے غیر ممالک سفر کرنے والے اپنے شہریوں کو خبردار بھی کر دیا ہے۔ امریکی خفیہ ادارے FBI نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کی صورت میں غیر ممالک میں امریکی عسکری تنصیبات حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جعمرات کی رات سے امریکی حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ قرآن آتشزنی کے منصوبے کو روکنے کے لئے ٹیری جونز سے براہ راست رابطہ کیا جائے۔ ٹیری جونز نے اپنے چرچ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی اعلیٰ حکام براہ راست اس سےبات کریں تو وہ وہ اپنے منصوبے پر عملدرآمد روک سکتے ہیں ۔ پینٹا گون کے پریس سیکریٹری جیف موریل نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس غور کر رہے ہیں کہ وہ ٹیری جونز کو یہ سمجھائیں کہ جو کچھ وہ کرنا چاہتا ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔

Koran-verbrennung Koran Christen USA Islam NO FLASH

ٹیری جونز نے کہا ہے کہ اگر اعلیٰ امریکی حکام ان سے براہ راست اپیل کریں گے تو وہ اپنے منصوبے پر عمدرآمد روک سکتے ہیں

قرآن نذر آتش کرنے کے اس مجوزہ منصوبے پر دنیا بھر میں شدید مذمت سامنے آ رہی ہے۔ پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اس عمل سے مسلم دنیا کے جذبات کو نہ صرف شدید ٹھیس پہنچے گی بلکہ اس سے مذہبی مکالمت اور عالمی امن کو بھی شدید نقصان ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM