1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قرآن نذرآتش نہ کرنے کے اعلان کے باوجود مظاہرین کا اجتماع

امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک بنیاد پرست پادری کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید نذر آتش کرنے کامنصوبہ ترک کئے جانے کے باوجود کئی مظاہرین اس چرچ کے گرد جمع ہوگئے، جو اس مقصد کے لئے مختص کیاگیا تھا۔

default

پاسٹر ٹیری جونز

کئی دن تک جاری رہنے والی بے یقینی کے بعد فلوریڈا کے ایک چرچ کے پاسٹر ٹیری جونز نے، جو گزشتہ روز سے نیویارک پہنچے ہوئے ہیں، ہفتہ کو امریکی ٹیلی وژن NBC کے ساتھ انٹریو میں کہا، ’ہم یقیناﹰ قرآن نذر آتش نہیں کریں گے... نہ آج اور نہ پھر کبھی۔’

مسلمانوں کی مقدس کتاب نذرآتش کرنے کے محض اعلان سے نہ صرف اس کی مذمت کی گئی بلکہ اس کے خلاف مظاہرے اور احتجاج شروع ہوگیا۔ تاہم 11 ستمبر کو قرآن مجید نذرآتش کرنے کا اعلان کرنے والے چرچ کے باہر کئی مظاہرین جمع ہوگئے۔ ان مظاہرین کو قابو میں رکھنے اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری نے نہ صرف اس چرچ سمیت اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کی طرف سے اس علاقے میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی بھی لی گئی۔

پولیس نے ایک پک اپ ٹرک میں اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو افراد کو گرفتار کرلیا، تاہم ابتدائی تفتیش کے بعد ان افراد کو رہاکردیا گیا۔ ان دونوں افراد نے کئی بندوقیں، پستول اور گولیوں کے ڈبے اپنے پک ٹرک کے بونٹ پر رکھے ہوئے تھے۔

New York - pro-Moslem-Demonstration NO FLASH

نیویارک میں اسلامی مرکز کی تعمیر کے خلاف اور حق میں مظاہرے

دوسری جانب ہفتہ کی سہ پہر ایک شخص نے قرآن نکال کر اسے نذرآتش کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے بروقت ناکام بنا دیا اور اس شخص سے قرآن اور لائٹر چھین لیا۔ اٹلانٹا سے تعلق رکھنے والے سباستیان بیگبی کا کہنا تھا کہ وہ مذکورہ چرچ کو اپنی حمایت کا یقین دلانا چاہتا تھا۔

اُدھر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں سابق ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام پر جسے گراؤنڈ زیرو کہا جاتا ہے، ہزاروں مظاہرین جمع ہوگئے، جن میں اس مقام کے نزدیک ایک اسلامک سینٹر اور مسجد کی تعمیر کے مخالف اور حامی دونوں شامل تھے۔

گراؤنڈ زیرو پر منعقد ہونے والی سرکاری سوگوار تقریب کے بعد قریب دوہزار افراد جمع ہوگئے، جو گراؤنڈ زیرو سے پانچ بلاک کے فاصلے پر مجوزہ طور پر تعمیر کئے جانے والے اسلامک سینٹر کی حمایت کررہے تھے۔ تاہم نزدیکی علاقے میں قریب ڈیڑھ ہزار افراد نے جمع ہوکر اس اسلامک سینٹر کی تعمیر کے خلاف نعرے بازی کی۔ نیویارک پولیس کے مطابق اس علاقے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس