1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے ہتھیار ڈالنے تک مذاکرات نہیں، قومی عبوری کونسل

لیبیا میں قذافی مخالف حکومت نے کہا ہے کہ وہ معمر قذافی کے ہتھیار ڈالنے تک ان کے خلاف اپنی کارروائیاں نہیں روکے گی۔ اتوار کے روز قومی عبوری کونسل کی جانب سے یہ بیان ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو دیا گیا۔

default

بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی عبوری کونسل کو فی الحال یہ علم نہیں کہ معمر قذافی کہاں روپوش ہیں، تاہم ان کی تلاش جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر قذافی ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیں، تو ان سے مذاکرات ممکن ہیں۔ تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ معمر قذافی کو حراست میں لیا جائے گا۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں معمر قذافی کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے کہا تھا کہ قذافی ایک عبوری حکومت کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معمر قذافی اب بھی لیبیا ہی میں موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معمر قذافی کس جگہ روپوش ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کو فون کر کے قذافی کے ترجمان نے کہا، ’ اگر باغی مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں، تو مذاکرات میں  قذافی کی جانب سے نمائندگی ان کے بیٹے سعدی کریں گے۔‘

Libyen Rebellen feiern die Befreiung des Bezirks Qasr Bin Ghashir Flash-Galerie

باغی قذافی کے آبائی شہر سرت سے 30 کلومیٹر کی دوری پر ہیں

ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ای میل رابطے کے ذریعے سعدی قذافی نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ بندی اور مذاکرات کے خواہشمند ہیں۔ ای میل میں سعدی قذافی کا کہنا تھا، ’میں اپنے شہر طرابلس اور اس میں بسنے والے دو ملین افراد کو بچانے کی کوشش کروں گا۔ ورنہ طرابلس صومالیہ کی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو جائے گا۔‘‘

سعدی قذافی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ جلد ہی وہاں خون کا ایک سمندر ہو گا۔

دوسری جانب قذافی مخالف جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ معمر قذافی ممکنہ طور پر طرابلس ہی میں کہیں پناہ لیے ہوئے ہیں اور انہیں ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے۔

لیبیا کی قومی عبوری کونسل کی جانب سے ایک مرتبہ پھر یہ بھی کہا ہے کہ طرابلس میں انسانی بنیادوں پر پانی اور ایندھن کی ترسیل کی اشد ضرورت ہے۔

دریں اثناء طرابلس کے جنوب میں 50 جھلسی ہوئیں نعشیں برآمد کی گئیں ہیں۔ صلاح الدین ضلع کے رہائشیوں کے مطابق حکومت مخالف ان افراد کو قذافی کے ایک بیٹے کی کمان میں کام کرنے والے فوجیوں کے ایک گروپ نے گزشتہ منگل کو قریبی فوجی چھاؤنی سے پسپا ہوتے ہوئے ہلاک کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان کے پاس شواہد موجود ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ معمر قذافی کی افواج نے اپنی قید میں موجود 17 افراد کو ہلاک کیا جبکہ طرابلس سے پسپا ہوتے ہوئے مبینہ طور پر درجنوں شہریوں کو بھی قتل کیا گیا۔

جمعے کے روز ابو سالم ضلع کے ایک ہسپتال سے 200 افراد کی گلی ہوئی لاشیں برآمد کی گئی تھیں۔ مقامی افراد کے مطابق جنگ کی وجہ سے ڈاکٹرز اور نرسیں اپنی جانیں بچانے کے لیے مریضوں کو یہیں مرتا چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

قومی عبوری کونسل کے وزیراطلاعات محمود شمام نے کہا کہ معمر قذافی کی تلاش کا کام جاری رہے گا، تاہم اس سے طرابلس سمیت ملک بھر میں تعمیر نو کی کوششوں پر حرف نہیں آنے دیا جائے گا۔

 

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شامل شمس

DW.COM