1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے، اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی قذافی کے گرد گھیرا تنگ کرتے جا رہے ہیں، دوسری جانب لیبیا کی اپوزیشن نے کہا ہے کہ نوفلائی زون کی غیر موجودگی میں ان کی جدوجہد ناکام ہو سکتی ہے۔

default

برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں بھی ایک مرتبہ پھر کہا گیا ہے کہ قذافی کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ’تمام آپشنز‘ کھلے رکھے گئے ہیں، تاہم لیبیا پر کسی فضائی حملے، عسکری کارروائی یا نوفلائی زون کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

Libyen Aufständische bei Ras Lanuf

قذافی مخالف باغیوں کی مزاحمت جاری ہے

ناقدین امریکی صدر اوباما کو لیبیا کی صورتحال میں سست ردعمل ظاہر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں حالانکہ امریکہ کی جانب سے قذافی اور ان کے قریبی رفقاء کے خلاف مالی پابندیوں کے ساتھ ساتھ لیبیا کی فوجی امداد پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما کے مطابق اس سلسلے میں تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر آہستہ آہستہ قذافی کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قذافی بین الاقوامی سطح پر تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے اپنے لیے تمام آپشنر ابھی تک کھلے رکھے ہیں۔

اوباما کے اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی وزارت خزانہ نے قذافی کی اہلیہ، چار بیٹوں اور لیبیا کے چار دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے اثاثوں کے انجماد سے متعلق پابندیوں کو مزید سخت بنانے کا اعلان کیا۔

EU Gipfel Brüssel 2011

برسلز میں یورپی یونین کے اجلاس کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

دریں اثناء لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں سے لیس قذافی کی حامی افواج حکومت مخالفین کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ جمعہ کے روز لیبیا کی فوج نے ساحلی علاقے راس لانوف پر بحری، بری اور فضائی حملہ کیا۔ فوج کے مقابلے میں باغیوں کے پاس صرف چھوٹے ہتھیار ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق لیبیا میں باغی، قذافی کی حامی افواج کو روکنے میں مغربی دنیا کی طرف سے کسی بڑے قدم کے نہ اٹھائے جانے پر خاصے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں لیبیا کے سابق سفارتکار عبد الرحمان نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ پیر کے روز لیبیا کی اپوزیشن کے اہم رہنما محمود جبریل سے پیرس میں ملاقات کرنے والی ہیں۔ جبریل جمعرات کے روز پیرس پہنچے تھے، جہاں فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے ان کا استقبال کیا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس