1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے قتل کے چار سال بعد بھی لیبیا شناخت کی تلاش میں

لیبیا کے سابق حکمران معمر القذافی کے ایک عوامی بغاوت میں قتل کو آج ٹھیک چار سال ہو گئے ہیں، مگر تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک آج بھی اپنی قومی شناخت کی تگ و دو میں ہے اور پورا ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔

امریکا میں قائم گوبل انٹیلیجنس کمپنی سٹراٹفور میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر مائیکل نائبی اوسکوئی کے مطابق، ’’قذافی نے ریاست کو اپنی ذات کے گرد تعمیر کرنے کو فوقیت دی تھی۔‘‘ آمر قذافی کو اکتوبر 2011ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اوسکوئی کے مطابق، ’’بجائے اس کے کہ وہ ریاستی اداروں کو اس طرح تعمیر کرتے کہ وہ ان کے بغیر بھی قائم رہ سکتے، قذافی نے تیل کی دولت سے قائم کی گئی فوج کو اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو کچلنے کے لیے استعمال کیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، ’’لیبیا کو اگر کئی دہائیاں نہیں تو کئی برس ضرور لگیں گے کہ وہ اپنی قومی شناخت تلاش کر سکے۔‘‘

لیبیا بحیثیت مجموعی ایک قبائلی قوم ہے، جو قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد دو متحارب حکومتوں اور کئی مسلح گروپوں کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے۔ یہ مسلح گروپ اس ملک کے توانائی کے بڑے ذخائر پر قبضے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ایک ملیشیا اتحاد نے جس میں اسلام پسند بھی شامل ہیں، اگست 2014ء میں طرابلس پر قبضہ کر لیا تھا اور ایک متوازی حکومت اور پارلیمان قائم کر لی تھی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ انتظامیہ کو لیبیا کے مشرقی حصے میں جا کر پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کی کوششوں سے متحارب حکومتوں اور گروپوں کے درمیان کرائے جانے والے طویل امن مذاکرات کے بعد مخالف دھڑے ایک امن معاہدے پر رضامند ہو گئے ہیں اور ایک متحدہ قومی حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار ہوتی نظر آ رہی ہے۔

مسلح گروپ اس ملک کے توانائی کے بڑے ذخائر پر قبضے کے لیے لڑ رہے ہیں

مسلح گروپ اس ملک کے توانائی کے بڑے ذخائر پر قبضے کے لیے لڑ رہے ہیں

لیبیا میں جاری افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ نے بھی لیبیا میں قدم جما لیے ہیں جبکہ انسانی اسمگلرز لیبیا کے ساحلوں سے لوگوں کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچانے کے کاروبار میں مصروف ہیں۔ یہ اسمگلرز اس مقصد کے لیے خطرناک کشتیاں استعمال کرتے ہیں جس کے سبب اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیبیا کے ان حالات اور افراتفری کی ذمہ داری معمر قذافی پر ہی عائد کی جاتی ہے۔ طرابلس میں قائم حکومت کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’قذافی ایک طویل عرصے تک شہ سرخیوں میں رہیں گے، کیونکہ انہوں نے جو نظام حکومت قائم کیا، اس کے اثرات ختم کرنے میں طویل وقت لگے گا۔‘‘ اس اہلکار کا مزید کہنا تھا، ’’انہوں نے جو کچھ بھی چھوڑا وہ بدعنوانی کا شکار ہے، سیاست، معیشت، معاشرہ اور حتٰی کہ کھیل بھی۔ اور ہمیں ’ا‘ سے ’ے‘ تک ہر چیز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، تمام تر قوانین، تمام قواعد اور تمام ہدایات۔‘‘

معمر قذافی کو 69 برس کی عمر میں ان کے آبائی علاقے سرت میں مسلح افراد نے 20 اکتوبر کو گرفتار کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس کے تین دن بعد عبوری انتظامیہ نے لیبیا کی ’مکمل آزادی‘ کا اعلان کر دیا تھا۔ قذافی نے مغرب نواز بادشاہت کے خلاف 1969ء میں ایک بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا اور چار دہائیوں تک لیبیا پر حکومت کی تھی۔