1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے خلاف نیٹو آپریشن کے 100 دن مکمل

نیٹو کی جانب سے معمر قذافی اور ان کی حامی افواج کے خلاف جاری فضائی آپریشن کے 100 دن مکمل ہوگئے ہیں مگر لیبیا کی صورتحال بظاہر جوں کی توں ہے۔ قذافی حکومت میں ہیں اور باغی ان کو ہٹانے کی جدوجہد میں مصروف۔

default

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی طرف سے لیبیائی عوام کو حکومتی کارروائیوں سے بچانے کے لیے شروع کیے جانے والے ’آپریشن یونیفائیڈ پروٹیکٹر‘ کے آغاز سے لے کر اب تک لیبیا پر پانچ ہزار فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔ نیٹو اب بھی روزانہ قریب 50 اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔ زیادہ تر طرابلس کے ارد گرد، لیبیا کے مغربی شہر مصراتہ اور مشرقی شہر بریقہ کے علاوہ دارالحکومت کے جنوب میں واقع نفوسہ پہاڑیوں پر موجود اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تاہم نیٹو کی طرف سے قذافی کی حامی فوج کو باغیوں کے گڑھ بن غازی اور مصراتہ سے دور رکھنے میں ابتدائی کامیابیوں کے باوجود طاقت کا توازن ابھی تک باغیوں کے حق میں نہیں ہو سکا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC نے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں لیبیا کے رہنما معمر قذافی سمیت تین افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں

بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC نے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں لیبیا کے رہنما معمر قذافی سمیت تین افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں

دوسری طرف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC نے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں لیبیا کے رہنما معمر قذافی سمیت تین افراد کے آج وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ معمر قذافی کے علاوہ جن دو دیگر افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، ان میں معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی اور ملکی خفیہ ادارے کے سربراہ عبداللہ السینوسی شامل ہیں۔ لیبیا میں خانہ جنگی کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بین الاقوامی عدالت میں بھیجا تھا۔

ادھر جنوبی افریقہ کے صدر جیک زوما نےگزشتہ روز لیبیا پر نیٹو کے حملوں کو ایک مرتبہ پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ زوما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیٹو کے جنگی مشن کا مقصد باغیوں اور حکومتی فوج کے درمیان جاری جنگ میں سویلین آبادی کا تحفظ ہے۔ ان کے بقول قذافی کی ہلاکت قطعاً اس مشن کا حصہ نہیں ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدر نے مزید کہا کہ مغربی دفاعی اتحاد کی جانب سے کی جانے والی بمباری کی وجہ سے اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

لیبیا کے لیڈر معمر القذافی نےگزشتہ روز تنازعے اور بحران کے حل کے لیے جاری مذاکراتی عمل سے باہر رہنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ افریقی یونین کے نمائندہ پینل نے قذافی کےاس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM